وقف ریکارڈس غائب کردئیے جانے یا حذف کرنے کے معاملہ کی بھی آزادانہ تحقیقات پر زور
حیدرآباد۔13۔اگسٹ(سیاست نیوز) ڈپٹی فلور لیڈر بھارت راشٹریہ سمیتی مسٹر ٹی ہریش راؤ نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو روانہ کردہ مکتوب میں جامعہ نظامیہ کی رائے درگ میں واقع موقوفہ اراضی سروے نمبر 83 کے ہراج کو فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت مذکورہ جائیداد کی ملکیت کے معاملات کی یکسوئی کے بغیر ان جائیدادوں کو ہراج کرنے کے اقدامات کررہی ہے جو کہ سرمایہ کاروں کو سرمایہ کو پھنسانے کے مماثل ہے ۔مسٹر ہریش راؤنے چیف منسٹر کے نام روانہ کردہ مکتوب میں کہا کہ سروے نمبر 83 حکومت کے ریکارڈس کے مطابق شہر حیدرآباد کے ’’تہذیبی ورثہ ‘‘ کا حصہ ہے اور اس سلسلہ میں متحدہ آندھراپردیش نے مذکورہ سروے نمبر سے متعلق جی او کی اجرائی کے ذریعہ اسے محفوظ قرار دیا تھا ۔ انہوں نے ریاستی حکومت کو ’جامعہ نظامیہ ‘ کے ادعا کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ جب جائیداد کی ملکیت ’’وقف‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا جا رہاہے تو ایسی صورت میں ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ محکمہ اقلیتی بہبود اور وقف کے ریکارڈس کی تنقیح کے اقدامات کریں تاکہ ’ملکیت‘ کے تنازعہ کو حل کیا جاسکے۔انہوں نے مکتوب میں معاملہ کی عوامی اور قانونی اہمیت پر متوجہ کرواتے ہوئے کہا کہ اراضی کے مجوزہ ہراج کے نتیجہ میں عوام میں تشویش پائی جانے لگی ہے اور جو ہراج کیا جارہا ہے وہ قانونی اعتبار سے بھی درست نہیں ہے۔انہو ںنے 2003 میں حکومت آندھراپردیش کی جانب سے جاری کئے گئے جی او ایم ایس 4 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے رائے درگ‘ پان مقطعہ موضع میں موجود سروے نمبر 83 کو ریاست کے ’تہذیبی ورثہ‘ کی فہرست میں شامل کیا ہوا ہے اور حکومت تلنگانہ اگر اسے فروخت کرنے کے اقدامات کر رہی ہے تو وہ ریاست کی تہذیب کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔سابق ریاستی وزیر و ڈپٹی فلور لیڈر بی آر ایس نے اپنے مکتوب میں سپریم کورٹ دائر کی گئی ایک SLPنمبر 1866/2024 میں دیئے گئے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے متنازعہ اراضی یا ملکیت کے معاملہ میں تصفیہ کے بغیر اراضی پر کسی تیسرے فریق کے مفادات کو شامل کرنے سے گریز کا مشورہ دیا ہے اور دیوانی عدالت اور متعلقہ فورم میں ملکیت کے دعوے کے بغیر کسی اراضی پر تیسرے فریق کے مفادات کے تحفظ کے لئے اس طرح کے اقدامات کی تاکید کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود جس اراضی پر ملکیت کے ادعا جات موجود ہیں ان اراضیات کا سرکاری طور پر ہراج کیا جانا درست نہیں کیونکہ یہ عمل تیسرے فریق کے مفادات کو نقصان پہنچانے اور حقیقی مالکین کو انصاف کے اصولوں سے محروم کرنے کے مترادف ثابت ہوگا۔مسٹر ٹی ہریش راؤ نے مذکورہ سروے نمبر پر سابق میں کئے گئے ہراج پر اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ملکیت کے دعوے کے بعد معاملہ عدالت میں زیر دوراں ہے اور اب جامعہ نظامیہ بھی مذکورہ اراضی پر اپنے مالکانہ حقوق پیش کر رہا ہے ایسی صورت میں حکومت کو تمام دستاویزات کا جائزہ لینے کے اقدامات کرنے چاہئے ۔ انہوں نے 17اور21اگسٹ کو مجوزہ ہراج کی تنسیخ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 10.63 ایکڑ اراضی کے 2 پلاٹس کا ہراج دوبارہ قانونی تنازعہ کا شکار ہوسکتا ہے اسی لئے حکومت پر املاک کی انتظامی و قانونی جانچ کے ساتھ احتیاطی امور اختیار نہ کئے جانے پر سنگین سوالات پیدا ہونے لگے ہیں۔انہوں نے مذکورہ اراضی و سروے نمبر 83میں تمام تعمیری و ترقیاتی سرگرمیوں کو مالکانہ حقوق کا فیصلہ ہونے تک فوری اثرکے ساتھ معطل کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وقف ریکارڈس کے غائب کردیئے جانے یا انہیں حذف کرنے کے علاوہ جائیداد کو غیر قانونی طور پر منتقل کئے جانے کے معاملہ کی بھی آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔3/m/b