مودی حکومت پر منافع خوری کا سنگین الزام :صدر کانگریس ملکارجن کھرگے
نئی دہلی ۔26؍مئی ( ایجنسیز)پٹرول و ڈیزل کی قیمت میں مسلسل اضافہ اور آج پی این جی کی قیمت میں اضافہ نے نہ صر ف عوام کی جیب پر بوجھ ڈال بلکہ مہنگائی میں مزید اضافہ کونمایاں کر دیا ہے۔ اس معاملے میں کانگریس مودی حکومت کے خلاف مسلسل آواز اٹھا رہی ہے اور عوام مخالف پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے ایک تازہ سوشل میڈیا پوسٹ میں بھی وزیر اعظم مودی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انھوں نے کچھ حقائق سامنے رکھے ہیں اور کہا ہے کہ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا، پڑھے لکھے کو فارسی کیا!ملکارجن کھرگے کا کہنا ہے کہ پی آئی بی کے آفیشیل بیان کے مطابق آج سے ٹھیک 12 سال قبل 26 مئی 2014 کو جب وزیر اعظم مودی نے اقتدار سنبھالا تھا اس دن ہندوستانی باسکیٹ کا خام تیل 108.05 ڈالر فی بیرل تھا اور ڈالر۔روپیہ ایکسچینج ریٹ 58.59 روپے تھی۔ اس وقت پٹرول 71.51 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 56.71 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج خام تیل کی قیمت 99 ڈالر فی بیرل سے کم ہے لیکن پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھ کر بالترتیب 102.12 روپے فی لیٹر اور 95.20 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ یعنی خام تیل سستا ہوا لیکن پٹرول تقریباً 42.8 فیصد اور ڈیزل تقریباً 67.9 فیصد مہنگا ہو گیا۔پرانی اور نئی قیمتوں کا موازنہ کرنے کے بعد کانگریس صدر نے کہا کہ پٹرول۔ڈیزل کی مہنگائی کا اثر ہر شعبہ پر پڑتا ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی منافع خوری جاری ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ جب خام تیل سستا ہوا ہے تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھ کیوں گئی ہیں اور عوام کو راحت کیوں نہیں دی جارہی ہے ؟