جتنی بڑی چوری، اتنا بڑا انعام:راہول گاندھی

,

   

الیکشن عہدیداروں کی سویندو ٹیم میں شمولیت پرٹی ایم سی کا بھی طنز

نئی دہلی ۔12؍مئی ( ایجنسیز)مغربی بنگال میں وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کی زیر قیادت حکومت نے اپنا کام شروع کر دیا ہے لیکن کچھ ایسے فیصلے بھی لیے ہیں جس نے اپوزیشن کو تنقید کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ چیف الیکٹورل افسر منوج اگروال کو مغربی بنگال کا چیف سکریٹری اور مغربی بنگال میں 2026 اسمبلی انتخاب کے خصوصی مبصر رہے سبرت گپتا کو وزیر اعلیٰ کا مشیر بنائے جانے پر اپوزیشن سوال اٹھا رہا ہے۔ کانگریس قائد راہول گاندھی نے اس فیصلے کو بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی ملی بھگت کا ثبوت قرار دیا ہے۔راہول گاندھی نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں بی جے پی اور الیکشن کمیشن دونوں کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ راہول گاندھی نے ’انڈیا ٹوڈے‘ کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بی جے پی۔الیکشن کمیشن کے چور بازار میں… جتنی بڑی چوری، اتنا بڑا انعام۔ ویڈیو میں مغربی بنگال کے سابق چیف الیکٹورل افسر منوج اگروال کو چیف سکریٹری بنائے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی بتایا گیا ہے کہ 2 انتخابی عہدیدار اب سویندو کی ٹیم کا حصہ بن گئے ہیں۔ یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ سبکدوش آئی اے ایس افسر سبرت گپتا اور منوج اگروال ایس آئی آر عمل سے بھی جڑے ہوئے تھے۔اس معاملہ میں ترنمول کانگریس نے بھی سوال اٹھائے ہیں لیکن بی جے پی نے دونوں تقرریوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں اہلیت کی بنیاد پر‘ تقرری ملی ہے۔ بی جے پی کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارٹی ملک کے قوانین کے وقار کو بحال کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کر رہی ہے۔ دوسری طرف ٹی ایم سی لیڈر ساکیت گوکھلے نے اس قدم کو ’بے شرمی کی حد‘ بتایا اور ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ڈیریک او برائن نے طنزیہ لہجہ میں اسے اتفاق کہا۔ گوکھلے کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ قدم بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی ’انتخاب چوری‘ کی کھلی حرکت کو ظاہر کرتا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عدالتیں ’اندھی‘ ہیں، یا ملی بھگت کر رہی ہیں۔