ججس کے تقررات کیلئے ہائی کورٹ میں درخواست

   

مقدمات کی یکسوئی میں تاخیر،24 کے منجملہ محض 13 ججس
حیدرآباد۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک درخواست دائر کی گئی جس میں ججس کی 50 فیصد مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کی اپیل کی گئی۔ سینئر کونسل ستیم ریڈی نے درخواست میں سکریٹری جنرل سپریم کورٹ، وزارت قانون و تلنگانہ حکومت کو احکام جاری کرنے کی اپیل کی ۔ کہا گیا ہے کہ مقدمات کی عاجلانہ یکسوئی کیلئے دستور کی دفعہ 224A کے تحت باقاعدہ ججس یا ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ججس کا تقرر کیا جائے۔ کونسل نے بتایا کہ انہیں ہائی کورٹ میں 35 سالہ تجربہ ہے اور ججس کی کمی سے کئی مقدمات زیر التواء ہیں۔ 30 نومبر تک تلنگانہ ہائی کورٹ میں زیر التواء کیس 220891 ہیں اور روزانہ تقریباً 300 نئے کیس آتے ہیں۔ یہ مقدمات صرف 13 ججس سے رجوع ہوتے ہیں جو برسر خدمت ہیں جبکہ ہائی کورٹ کے ججس کی تعداد 24 ہونی چاہیئے۔ حال ہی میں مرکزی وزارت قانون نے ججس کی تعداد بڑھا کر 36 کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ کوویڈ وباء کے دوران 13 ججس نے 9 ماہ میں محض 17 ہزار کیسس کی یکسوئی کی ہے۔ کئی مقدمات سماعت کی فہرست میں شامل نہیں ہوپارہے ہیں۔