برلن: برلن میں ہونے والے مظاہرے کے دوران بائیں بازو کے گروپوں نے جرمنی سے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے اور بعض صورتوں میں نیٹو سے نکل جانے کا مطالبہ کیا۔ منتظمین نے بتایا کہ اس میں چالیس ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔جرمن دارالحکومت برلن میں جمعرات کے روز ہزاروں مظاہرین یوکرین کی جنگ سے متعلق جرمن حکومت کے موقف کے خلاف احتجاج کیلئے جمع ہوئے۔مشرقی اور مغربی جرمنی کے یوم اتحاد کے موقع پر اس امن مارچ کا اہتمام “نیور اگین وار” یعنی ‘جنگ اب کبھی دوبارہ نہیں’ کے بینر تلے کیا گیا تھا، جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔سن 1990 میں مغربی حصے پر مشتمل وفاقی جمہوریہ جرمنی اور مشرقی حصے پر مشتمل کمیونسٹ نظام حکومت والی جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک ریاستیں دوبارہ متحد ہوگئی تھیں اور اسی اتحاد کی یاد میں تین اکتوبر کو سالانہ تعطیل ہوتی ہے۔مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر جنگ کے بجائے سفارت کاری کا مطالبہ کیا گیا اور یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔کچھ مظاہرین نے غزہ پٹی میں لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا اور اسرائیلی جنگ کی مخالفت کی۔منتظمین نے کہا کہ ریلی میں 40,000 سے زیادہ افراد نے شرکت کی، جبکہ پولیس نے درست تعداد پیش کرنے سے انکار کیا تاہم کہا کہ مظاہرین کی تعداد “پانچ اعداد کی حد کے اندر تھی۔”برلن کی پولیس نے جمعرات کی شام کو بتایا کہ اس دن ہونے والے متعدد مظاہرے اور احتجاج “بغیر کسی رکاوٹ کے اختتام پذیر ہو گئے”، جس میں کسی بڑے واقعہ، بدامنی یا گرفتاریوں کی اطلاع نہیں ہے۔ جرمن سیاست کی نمایاں شخصیات نے اس امن مارچ کے اختتام پر وہاں جمع ہونے والوں سے خطاب کیا۔