یانگون۔6 جون (ایجنسیز)ہندوستان کے پڑوسی ملک میانمار سے ریاست رخائن کی آزادی کا اعلان کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ اراکان آرمی، یعنی باغیوں نے رخائن کو الگ کرنے کی جدوجہد انتہائی تیز کر دی ہے۔ راجدھانی ستوے کا اراکان کے جنگجوؤں نے محاصرہ کر لیا ہے اور اس جنگ کو آخری بڑی جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر راجدھانی ستوے پر اراکان آرمی کا قبضہ ہو جاتا ہے تو باغی گروپ رخائن کو ایک الگ ملک بنانے کا اعلان کر دے گا۔ مقامی اخبار ’دی اراوادی‘ کے مطابق اراکان آرمی پہلے ہی 17 میں سے 14 علاقوں پر قبضہ کر چکی ہے۔ اب باقی 3 علاقوں پر قبضے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اراکان آرمی نے ستوے کے اطراف اپنے محاذ بھی قائم کر لیے ہیں اور اس کی پوری توجہ ستوے پر کنٹرول حاصل کرنے پر ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 2009 میں اراکان نسل (بدھ مت کے پیروکار) نے رخائن کو زیادہ انتظامی اختیارات دینے کے مطالبے کے ساتھ تحریک شروع کی۔ اسی سال اراکان آرمی کی تشکیل بھی کی گئی۔ رخائن بنگلہ دیش اور میانمار کی سرحد کے قریب واقع ایک صوبہ ہے۔ یہاں 2016 کے بعد بغاوت نے شدت اختیار کر لی۔ اراکان آرمی سے وابستہ افراد نے ابتدا میں یہاں کی روہنگیا برادری کے خلاف قتل عام کی مہم شروع کی۔ آبادی کے اعتبار سے روہنگیا اس علاقے میں اقلیت میں تھے۔اراکان آرمی کی کارروائیوں کے باعث روہنگیا برادری کو یہاں سے نقل مکانی کرنا پڑی۔ اسی دوران میانمار کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور فوج نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس کے بعد اراکان آرمی نے اپنی بغاوت کو مزید تیز کر دیا۔ ابتدا میں فضائی حملوں کی وجہ سے اراکان آرمی جنٹا فوج کے مقابلے میں کمزور دکھائی دے رہی تھی، لیکن بعد میں اس نے علاقے میں اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ اب اراکان آرمی کا مطالبہ رخائن کو ایک الگ ریاست بنانا ہے۔