نیویارک: ایک ہندوستانی نژاد امریکی ڈاکٹر نے مبینہ طور پر حکومت کو موتیا کی سرجریوں اور تشخیصی ٹسٹوں کے لیے جن کی طبی ضرورت نہیں تھی، تقریباً 1,850,000 ڈالر ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ آرتی ڈی پانڈیا اور اس کے پانڈیا پریکٹس گروپ نے جھوٹے دعووں کے ایکٹ کی خلاف ورزی کی اور ان ٹسٹوں کے لیے بل بھی بنائے جو نامکمل یا بیکار تھے۔ امریکی اٹارنی ریان کے بکانن نے جاری کردہ ایک بیان میں کہا وہ معالج جو جائز طبی ضرورت کے بغیر طریقہ کار اور ٹسٹ کرواتے ہیں، وہ مریضوں سے آگے منافع رکھتے ہیں اور ان مریضوں کو غیر ضروری خطرے سے دوچار کرتے ہیں۔ بکانن نے کہا یہ تصفیہ ہمارے دفترکے ان ڈاکٹروں کے لیے جوابدہی کو یقینی بنانے کے عزم کی نمائندگی کرتا ہے جو ٹیکس دہندگان کے فنڈز کو ضائع کرتے ہیں۔
محکمہ انصاف کی ایک ریلیز کے مطابق، یکم جنوری 2011 سے 31 دسمبر 2016 تک، پانڈیا نے جان بوجھ کر طبی طور پر غیر ضروری موتیا بند نکالنے کی سرجریوں اور وائی اے جی لیزرکیپسولوٹومی کے لیے وفاقی صحت کی دیکھ بھال کے پروگراموں میں جھوٹے بلز جمع کروائے تھے۔