جعلی تعلیمی سرٹیفیکٹ کا ریاکٹ بے نقاب

   

تین افراد بشمول خاتون گرفتار ، پولیس کا نوجوانوں کو انتباہ
حیدرآباد ۔ 23 نومبر ( سیاست نیوز) فرضی تعلیمی سرٹیفیکٹ کے ریاکٹ کو بے نقاب کرتے ہوئے رچہ کنڈہ پولیس تین افراد بشمول ایک خاتون کو گرفتار کرلیا جبکہ اس ٹولی کا اصل سرغنہ مفرور بتایا گیا ہے ۔ کمشنر آف پولیس رچہ کنڈہ مہیش بھگوت نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ 35 سالہ سمینت ، 47 سالہ آنند کمار اور 30سالہ شیخ شاہین کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔اسپیشل آپریشن ٹیم ایل بی نگر زون اور پولیس چیتنیہ پوری نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اس ٹولی کا پردہ فاش کیا ۔ مفرور کلیان کو پولیس تلاش کررہی ہے جو موسی رام باغ علاقہ میں ’ وے فور اورسیس کنلسٹنسی‘ چلایا کرتا تھا ۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ بیروزگار نوجوان جو بیرون ممالک بالخصوص امریکہ اور برطانیہ جانے کے خواہشمند ہیں ان سے رجوع ہوا کرتے تھے اور ان سے حاصل کردہ فرضی سرٹیفیکٹ کی مدد سے یہ لوگ رجوع ہورہے تھے ۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ اس ٹولی کے قبضہ سے بڑی مقدار میں ملک کی معروف یونیورسٹیز کے فرضی سرٹیفیکٹ اور دستاویزات کو ضبط کرلیا گیا ہے ۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ جن سفارت خانوںسے فرضی سرٹیفیکٹ حاصل کرنے والے افراد رجوع ہورہے ہیں ،ان سفارت خانوں کو بھی پولیس کی جانب سے چوکنا کردیا گیا ہے اور سفارت خانوں کے ذریعہ بھی پولیس کو اہم اطلاعات حاصل ہورہی ہیں ۔ کمشنر پولیس نے بیروزگار نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے فرضی سرٹیفیکٹ کا استعمال نہ کریں ۔ کمشنر پولیس نے فرضی سرٹیفیکٹ فراہم کرنے والوں کے ساتھ حاصل کرنے والے افراد کو سخت کارروائی کا انتباہ دیا اور انہیں آگاہ کیا کہ اگر وہ ایسی کسی بھی حرکت کے مرتکب پائے جاتے ہیں تو انہیں مستقبل میں سرکاری ملازمت کا حصول ناممکن ہوجائے گا اور اس کے علاوہ پاسپورٹ ، لائسنس بھی حاصل نہیں ہوگا ۔ اس کارروائی کو انجام دینے والے ایس او ٹی انسپکٹر سدھاکر ، سب انسپکٹر تقی الدین اور کشنیا کی کمشنر پولیس نے ستائش کی ۔ ع