جلوس جنازہ پر حملوں کی وحشیانہ تجویز

   

ایسے دیوانے کا دنیا میں ٹھکانہ ہے کہیں؟
لوگ اپنا جسے سمجھے نہ تمہارا سمجھے
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کئے گئے اولین حملے میں شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ چار ماہ سے زیادہ کے عرصہ کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کا فیصلہ کیا گیا ہے جب امریکہ اور ایران کے مابین عبوری معاہدہ ہوگیا ہے اور مستقل معاہدہ کیلئے بھی بات چیت چل رہی ہے ۔ ساری دنیا میں یہ سوال گشت کر رہا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کیلئے غیرمعمولی انتظار کیوں کیا جا رہا ہے ۔ ایران نے بارہا یہ کہا تھا کہ جلوس جنازہ اور تدفین کے موقع پر لاکھوں افراد کی شرکت کا امکان ہے اور ایسے میں کچھ وحشیانہ سوچ کے حامل گوشوں کی جانب سے اس ہجوم پر حملے کئے جاسکتے ہیں۔ اب جبکہ ایران مںی آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کیلئے تیاریاں شروع کردی گئی ہیںا ور دنیا بھر سے مختلف قائدین کی شرکت کا امکان ہے تو کچھ وحشی سوچ رکھنے والے عناصر یہ تجویز کر رہے ہیں کہ اس موقع پر ایران پر بم برسائے جانے چاہئیں۔ خود امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کی حامی شدت پسند کارکن کی جانب سے بھی ایک بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو چاہئے کہ وہ جنازہ اور تدفین کے موقع پر اسرائیل پر حملے کردے ۔ اسرائیل کے بھی کچھ عناصر اسی سوچ کے حامل دکھائی دے رہے ہیں اور اسی طرح کی بیان بازیاں کی جا رہی ہیں۔ یہ سوچ انسانیت کو شرمسار کرنے والی کہی جاسکتی ہے ۔ جس وقت ایران پر حملے شروع کئے گئے تھے اس وقت مناسب میں لڑکیوں کے ایک مدرسہ کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا جس میں دو سو کے آس پاس لڑکیوں کی موت ہوئی تھی ۔ امریکہ نے بعد میں یہ وضاحت دینے کی کوشش کی تھی کہ مناب کے اسکول پر جان بوجھ کر حملہ نہیں کیا گیا تھا ۔ اس طرح امریکہ نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ جنگ کے دوران بھی کچھ اصولوں پر عمل کیا گیا ہے تاہم اب جس طرح کی وحشیانہ سوچ کو ظاہر کیا جا رہا ہے اس سے کئی اندیشے پیدا ہونے لگے ہیںاور ایسا نہیں ہے کہ صرف کسی ایک گوشے سے یہ بیان دیا گیا ہو ۔ یہ بیان انسانیت سوز ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے ۔
ایران نے اپنے مخالفین اور خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس موقع پر کسی طرح کی حرکت کرنے کی احمقانہ کوشش نہ کریں کیونکہ اس کے عواقب سنگین ہوسکتے ہیں۔ دنیا بھر میں آج تک سینکڑوں جنگیں لڑی گئی ہیں اور اب بھی لڑی جا رہی ہیں تاہم اس طرح کی سوچ اور تجویز شائد پہلی بار ظاہر کی گئی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں کس طرح کی ذہنیت کار فرما ہو رہی ہے اور جلوس جنازہ تک کو نشانہ بنانے کی کھلے عام رائے دی جا رہی ہے اور اس کی حمایت کی جا رہی ہے ۔ امریکہ کو اور خاص طور پر ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنی حامی کارکن کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت ہے اور یہ وضاحت کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ اس طرح کی وحشیانہ سوچ جنازہ اور تدفین جیسے امور میں ظاہر نہیں کی جانی چاہئے اور نہ ہی مہذب سماج میں اس کی کوئی گنجائش ہوسکتی ہے ۔ امریکہ اور اس کے حواری ممالک دنیا بھر میں انسانی حقوق اور اصول و اقدار کی بات کرتے ہیں لیکن اس طرح کی بیان بازیاں انتہائی غیر مہذب اور غیر اخلاق بلکہ وحشیانہ سوچ کی حامل ہی کہی جاسکتی ہیں اور ان کے سدباب کیلئے بھی موثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ جو کارکن اور گوشے اس طرح کی بیان بازیاں کر رہے ہیں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے ۔ ان پر تحدیدات عائد کی جانی چاہئے اور مذمت کی جانی چاہئے ۔
اسرائیل کا جہاں تک سوال ہے تو اس سے کوئی بعید نہیں ہے کہ وہ ایسی وحشیانہ حرکت کا ارتکاب بھی کر گذرے ۔ وہ کسی بھی حد تک جاسکتا ہے ۔ اس معاملے میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو حرکت میں آنے کی ضرورت ہے ۔ اسرائیل پر یہ واضح کیا جانا چاہئے کہ وہ کوئی احمقانہ حرکت کرنے سے گریز کرے کیونکہ اس کے ساری دنیا میں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور علاقہ میں امن قائم ہونے کی جو امیدیں پیدا ہوئی ہیں وہ متاثر ہوجائیں گی اور صورتحال انتہائی دھماکو بھی ہوسکتی ہے ۔ قبل از وقت اس معاملے کا صدر ٹرمپ کو نوٹ لیتے ہوئے ایسے عناصر کی سرکوبی کے اقدامات کرنے چاہئیں۔