جمعیتہ کے اجلاس میں ارشد مدنی کی شرکت‘اتحاد کی توقع

   

دیوبند: سرزمین دارالعلوم دیوبند میں جمعیۃ علماء ہند کے دو روزہ اجلاس کے دوران جہاں مسلمانوں کو درپیش سیاسی، سماجی اور مذہبی مسائل کے حوالے سے گفت و شنید جاری ہے، وہیں اس 100 سال پرانی تنظیم کے دونوں گروپس میں اتحاد کی امید نظر آ رہی ہے۔خیال رہے کہ جمعیۃ علما ہند دو گروپس میں تقسیم ہے۔ ایک گروپ کی قیادت مولانا ارشد مدنی کرتے ہیں جبکہ دوسرے گروپ کی قیادت ان کے بھتیجے مولانا محمود مدنی کے ہاتھ میں ہے۔ اجلاس کے پہلے دن یعنی ہفتہ کے روز شام کے وقت کی نشست میں مولانا ارشد مدنی نے بھی شرکت کی۔
دریں اثنا، مولانا ارشد مدنی نے جمعیۃ کے اتحاد کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب اتحاد (جمعیۃ کے دونوں گروپس کا) ہوگا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے علماء کرام نے ملک کی آزادی سے لے کر بابری مسجد جیسے مسائل تک بڑی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بزرگ کبھی سڑکوں پر نہیں آئے بلکہ انہوں نے آئینی جدوجہد کی۔ ایسے میں میں اس معاملے کو آپ کے سامنے رکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔ ہمیں بھی اسی طرح حالات کا سامنا کرنا ہے۔