جموں کشمیر کے اسلامی اسکالرس نے تبلیغی جماعت پر سے امتناع ہٹانے کی سعودی عربیہ سے مانگ کی

,

   

سری نگر۔ تبلیغی جماعت پر عائد امتناع پر دوبار ہ غور کر نے کا سعودی عربیہ سے جموں کشمیر کے اسلامی اسکالرس نے مطالبہ کیاہے۔

متحدہ مجلس علمائے (ایم ایم یو) جموں کشمیر جواسلامی اسکالرس پر مشتمل تنظیم ہے نے ایک اجلاس میں ایک قرارداد کو منظوری دیتی ہوئی مغربی ایشیائی ممالک سے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کا استفسار کیاہے۔

سعودی عربیہ نے 6ڈسمبر کے روز تبلیغی جماعت پر یہ کہتے ہوئے امتناع عائد کردیاتھا کہ یہ ”سماج کے لئے خطرہ اور دہشت گردی کے دروازوں میں سے ایک دروازہ“ ہے۔

مذکورہ ایم ایم یونے ایک بیان میں کہاکہ ”اجلاس میں پیش کردہ قرارداد کے بموجب واضح طور پر ایک مذہبی اور دعوۃ کی تنظیم تبلیغی جماعت پر مملکت سعودی عربیہ کی جانب سے عائد امتناع پر گہری تشویش کا اظہار کیاگیاہے اور حکومت سعودی عربیہ سے مانگ کی گئی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر دوبارہ نظر ثانی کریں“۔

مذکورہ ایم ایم یو نے دہلی نژاد ناشر ’جئے سی پبلکشن‘ کے ساتویں جماعت کے سیویکس اور تاریخ کی کتابوں میں پیغمبر اسلامﷺ‘ اور جبرئیل علیہ السلام کی شبہہ کو پیش کرنے پر بھی سخت تشویش او رناراضگی کا اظہار کیاگیاہے“۔

مذکورہ ایم ایم یو نے کہاکہ ”مذہب اسلام‘ پیغمبر اسلام ؐ‘ اور مقدس قرآن کے خلاف وقفہ وقفہ سے سازشیں روبمعل لائی جارہی ہیں۔تاہم وقفہ وقفہ سے اسلامی اسکالرس اور مسلمان اس کے خلاف اپنا احتجاج بھی درج کرارہے ہیں“۔

مذکورہ اسکالرس نے کہاکہ ناشرین کو چاہئے کہ وہ مواد کی اشاعت سے قبل اسلامی معاملات پر مسلم اسکالرس سے رجوع ہوں۔ایک ذیلی کمیٹی کی تشکیل کا بھی فیصلہ کیاگیا ہے جو ڈائرکٹر اسکول ایجوکیشن سے اسی پر رابطہ میں رہے گی۔