جنوبی کورین صدر کے دفتر پر پولیس کا چھاپہ

   

سابق وزیر دفاع کی خودکشی کی کوشش

سیول : جنوبی کوریا کی پولیس کے ایک خصوصی تفتیشی یونٹ نے کہا ہے کہ اس نے صدر یون سوک یول کے دفتر پر چھاپہ مارا ہے۔گزشتہ ہفتہ صدر یون سوک یول نے ملک میں مارشل لگا نافذ کر دیا تھا، تاہم اپوزیشن کی جانب سے سخت مخالفت کے بعد چند ہی گھنٹوں کے اندر مارشل لا ختم کرنے کا حکم جاری کیا۔پولیس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بھیجے گئے ایک پیغام میں کہا کہ ’خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے صدارتی دفتر، نیشنل پولیس ایجنسی، سیئول میٹرو پولیٹن پولیس ایجنسی اور نیشنل اسمبلی سکیورٹی سروس پر چھاپہ مارا ہے۔‘مارشل لا لگانے کی ناکام کوشش کرنے والے صدر یون سوک یول پر پہلے ہی بیرون ملک سفر پر پابندی لگائی گئی ہے۔پولیس نے اختیارات کے غلط استعمال کے الزام میں سابق وزیر دفاع کِم یونگ ہیون کو گرفتار کر لیا تھا۔یونہاپ نیوز ایجنسی نے خبر دی تھی کہ کِم یونگ ہیون نے گرفتاری سے کچھ دیر پہلے خودکشی کوشش کی۔سیئول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ کے ترجمان نے بتایا کہ وزیر دفاع کو گرفتار کر لیا گیا ہے، کیونکہ اس بات کا خدشہ تھا کہ شواہد کو ضائع کیا جا سکتا ہے۔وزیر دفاع نے اپنے وکلا کے ذریعے کہا ہے کہ ’تمام صورتحال کی ذمہ داری صرف مجھ پر ہے اور یہ کہ ماتحت حکام میرے احکامات کی پیروی کر رہے تھے اور فرائض سرانجام دے رہے تھے۔‘اتوار کو حراست میں لیے جانے والے وزیر دفاع پر سفری پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے، اسی طرح سابق وزیر داخلہ اور مارشل لا ا?پریشن کے انچارج جنرل پر بھی سفری پابندی لگا دی گئی ہے۔کورین نیشنل پولیس ایجنسی کے کمشنر جنرل اور سیئول میٹرو پولیٹن پولیس ایجنسی کے سربراہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔