تل ابیب ؍ بیروت : اسرائیل اور حماس نے ایک دوسرے پر ایک بار پھر الزام لگایا ہے کہ بین الاقوامی ثالثوں کی کوششوں کے باوجود ان کی طرف سے جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کو آگے نہیں بڑھنے دیا جا رہا ہے۔ فریقین کی طرف سے یہ الزام لگانے کا سلسلہ پیر کے روز بھی جاری رہا ہے۔فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے اس سلسلے میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مورد الزام ٹھہرایاکہ انہوں نے ایک بار پھر نئی شرائط شامل کر دی ہیں۔ اس نئے اضافے میں مطالبہ کیا ہے کہ صرف امریکی حمایت سے معاہدہ ہو۔ اس سے پہلے تازہ ترین مذاکرات ثالثوں کے ذریعہ ہی ہوئے ہیں۔دوسری جانب نیتن یاہو نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس نے اصل مسودے میں متعدد تبدیلیوں پر اصرار کیا ہے۔ایرانی حمایت یافتہ مزاحمتی گروپ حماس کا کہنا ہے اسے اسرائیلی تازہ ترین تجاویز موصول ہو گئی ہیں۔ یہ تجاویز روم میں امریکی سی آئی اے چیف اور مصری و قطری مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد موصول ہوئی ہیں۔ حماس کے مطابق ثالثوں نے جو پیغام دیا اس سے یہ واضح ہے کہ نیتن یاہو تاخیر کے نئے حربوں کے ساتھ نئی شرائط اور مطالبات طے کر کے معاہدے تک پہنچنے سے گریز کی پرانی اسرائیلی حکمت عملی پر واپس آ گئے ہیں۔