بیروت : حماس کے ترجمان جہاد طحہ نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے حتمی مسودے کوآخری شکل دے دی گئی ہے اور وہ اس پر اسرائیلی فریق کے ردعمل کا انتظار کر رہے ہیں۔طحہ نے العربیہ الجدید ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ثالثوں نے غزہ میں جنگ بندی مذاکرات اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کا مسودہ مکمل کر لیا ہے اور وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے نمائندے کے دوحہ، قطر جانے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ معاہدے پر دستخط کے حتمی انتظامات کی منظوری دی جا سکے۔قطر کے العربی ٹی وی نے حماس کے عہدیداروں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات اختتام کے قریب ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ جنگ بندی مذاکرات کا عمل مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے اور آنے والے گھنٹے کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اہم ہیں۔رپورٹ کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں ان نکات اور مقامات پر اتفاق کیا گیا جن سے اسرائیل دستبردار ہوگا۔ اس کے مطابق پہلے مرحلے میں اسرائیل غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان سرحدی لائن رفح سرحدی گزرگاہ اور فلاڈلفی کوریڈور کے کچھ مقامات سے پیچھے ہٹ جائے گا۔جنگ بندی کے ایک ہفتے بعد قیدیوں کو رہا کیا جائے گا اور اسرائیل کو طے شدہ علاقوں سے دستبردار ہونا ہے۔رپورٹ کے مطابق ثالثی کرنے والے ممالک قطر، مصر اور امریکہ مشترکہ پریس کانفرنس کریں گے جس میں جنگ بندی کی تفصیلات، اس پر عمل درآمد کی مدت اور اس کے نفاذ کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔