رقص، پٹاخے اور باجے پر پابندی، کوئی قاضی نکاح کی رسم ادانہیں کرینگے، اسراف کو روکنے مثالی تحریک
حیدرآباد۔/10 جنوری، ( سیاست نیوز) شادی بیاہ کے موقع پر اسراف اور بیجا رسومات کے خلاف یوں تو ملک بھر میں مسلم جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے مہم چلائی جارہی ہے لیکن جھارکھنڈ کے دھنباد علاقہ سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے ملک کیلئے مثال قائم کی ہے۔ دھنباد کی 55 مختلف مسلم تنظیموں نے شادی بیاہ کے موقع پر ڈی جے، پٹاخے اور رقص و سروور پر پابندی عائد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر اس کی خلاف ورزی کی گئی تو کوئی بھی قاضی نکاح کی رسم ادا نہیں کریں گے۔ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح جھارکھنڈ میں بھی شادی کی بارات کے موقع پر اسراف کے معاملات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ مقامی مسلم تنظیموں نے تنظیم علماء اہل سنت کی مساعی پر اجلاس منعقد کیا جس میں بیجا رسومات پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا۔ مولانا غلام سرور قادری کے مطابق ریاست بھر میں ’’ نکاح آسان کرو‘‘ کے عنوان سے مہم کا آغاز کیا گیا ہے اور دھنباد کے بعد دیگر شہروں میں بھی اس طرح کی پابندیوں کے ذریعہ بیجا رسومات اور اسراف پر قابو پانے کا منصوبہ ہے۔ اجلاس میں شریک مسلم نمائندوں کا احساس تھا کہ دولت کے غیر ضروری مظاہرے اور بیجا رسومات میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش نے مسلمانوں کی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹاخے اور باجے کے ساتھ ڈی جے کا استعمال غیر شرعی ہے اور اس طرح کی سرگرمیوں سے غریب اور متوسط طبقات میں شادیاں مشکل بنتی جارہی ہیں۔ مسلم تنظیموں نے متحدہ طور پر بیجا رسومات کی شادیوں کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔ مفتی محمد رضوان احمد نے کہا کہ بیجا رسومات پر بھاری خرچ کے بجائے بچوں کی تعلیم اور ان کی بھلائی پر خرچ کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ سماج میں موجود غریب اور مستحق خاندانوں کی مدد کی جاسکتی ہے۔ بیجا رسومات پر پابندی کا فیصلہ 28 پنچایتوں نے کیا ہے۔ پنچایتوں نے بیجا رسومات کے علاوہ جہیز پر بھی پابندی عائد کی ہے۔ر