جہد کار آفرین فاطمہ کے گھر کا انہدام غیر قانونی ‘ حکومت غلطی کا اعتراف کرے

   

انہدام کرنے والے عہدیداروں کے خلاف مقدمہ چلانے کی ضرورت ۔ پروفیسر فیضان مصطفی کا رد عمل
حیدرآباد۔14۔جون(سیاست نیوز) اتر پردیش میں آفرین فاطمہ کے مکان کے انہدام پر ردعمل میں وائس چانسلر نلسار یونیورسٹی پروفیسر فیضان مصطفی نے کہا کہ حکومت کو ان عہدیداروں کے خلاف کاروائی کرنی چاہئے جنہوں نے گھر کو منہدم کیا ہے تاکہ عوام کی نظر میں حکومت اور قانون کے احترام میں اضافہ ہو۔ انہو ںنے کہا کہ ’انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار‘ کے مترادف ہے اور اسی طرح ’انصاف میں عجلت انصاف کو دفن‘ کرنے کے مترادف ہے۔ پروفیسر فیضان مصطفی نے کہا کہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے لازمی ہے کہ قانون پر عمل کویقینی بنایا جائے اور ایسی انہدامی کاروائیوں پر حکومت کی خاموشی عوام میں قانون کی عزت و احترام کو ختم کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کو ایسی کاروائیوں کا دفاع کرنے کی بجائے غلطی کااعتراف کرکے معاوضہ ادا کرنا چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ دہلی ہائیکورٹ کے فیصلہ کے مطابق ’حق امکنہ ‘ کے تحت ہم بین الاقوامی اصولوں کے پابند ہیں اور کوئی غیر مجاز عمارت ہے بھی تو جب تک دوسرا مکان تعمیر نہیں کیا جاتا اس وقت تک اس کے انہدام کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ کسی اگر کسی جواز کے تحت کوئی ملکیت منہدم کی بھی جاتی ہے تو کسی فرد کے جرم کی سزاء اس کے خاندان کو دینے کا حق کسی کو نہیں ہے۔ انہو ںنے کہا کہ ہم قانون کی بالادستی میں پیشرفت کی بجائے الٹی سمت جا رہے ہیں اور موجودہ دور میں کسی بادشاہ کا حکم کوئی قانون نہیں بن سکتا کیونکہ کئی دہائیوں پر مشتمل سفر طئے کرنے کے بعد ہم قانون کی بالادستی قائم کرنے میں کچھ حد تک کامیاب ہوئے لیکن موجودہ صورتحال کسی آمریت سے کم نہیں ہے ۔ وائس چانسلر نلسار یونیورسٹی نے کہا کہ جسٹس ماتھر کے بیان سے یہ واضح ہے کہ یہ کاروائی غیر قانونی ہے اور اس کا کوئی جواز نہیں کہ کسی جائیداد کو اس طرح سے منہدم کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر انتقام کے نظریہ کے ساتھ اس طرح کی کاروائیاں کی جاتی ہیں تو قانون کی بالادستی برقرار نہیں رہ پائیگی۔ پروفیسر مصطفی نے کہا کہ اگر کوئی ناجائز عمارت ہے تو اسے قانونی طریقہ سے منہدم کیا جانا چاہئے ۔ ملک میں کئی مقامات پر عین انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں کی جانب سے اعلان کیا جاتا ہے کہ غیر مجاز عمارتوں و کالونیوں کو باقاعدہ بنایا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کئی عمارتیں ہیں لیکن انہیں منہدم نہیں کیاجاتا ۔ اگر واقعی عمارت غیر قانونی بھی تھی تو معاملہ کو عدالت میں رکھا جانا چاہئے تاکہ معزز جج اس بات کا فیصلہ کریں کہ عمارت کو باقاعدہ بنانا چاہئے یا منہدم کیا جانا چاہئے ۔ آفرین فاطمہ کے مکان سے ہتھیار اور قابل اعتراض مواد دستیاب ہونے کے دعوے پر انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ واضح کردیا کہ اگر کسی کے پاس گاندھی جی کی تحریر یا کتاب ہے تو وہ امن پسند ہو یہ ضروری نہیں اسی طرح اگر کسی کے پاس کوئی دہشت گردی اور شدت پسندی کا مواد دستیاب ہوتا ہے تو وہ دہشت گرد نہیں ہوسکتا۔م