جی ایچ ایم سی کنٹراکٹرس کو 800 کروڑ بقایہ جات بطور احتجاج کام روک دینے کا فیصلہ

   



حیدرآباد ۔19 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے کنٹراکٹرس نے بقایہ جات کی اجرائی کیلئے بطور احتجاج جاریہ کاموں کو روک دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جاریہ سال مارچ سے کنٹراکٹرس کو 800 کروڑ روپئے کی ادائیگی باقی ہے۔ کنٹراکٹرس اسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بقایہ جات کی اجرائی کیلئے بارہا نمائندگی کی گئی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا، لہذا انجنیئرنگ اور مینٹیننس کے کاموں کے علاوہ سڑکوںکی تعمیر ، ڈرینس کی صفائی اور مرمتی کاموں کو روک دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ کمشنر جی ایچ ایم سی سے اسوسی ایشن نے بارہا نمائندگی کی ۔ ان کا کہنا ہے کہ زیر التواء بلز کی مالیت 800 کروڑ سے زائد ہے، اس کے علاوہ کنٹراکٹرس 200 کروڑ کے بلز کیلئے اپنا دعویٰ پیش کرنے کیلئے تیار ہے اور یہ نئے کاموں سے متعلق بلز ہیں۔ کنٹراکٹرس کا کہنا ہے کہ حکومت اور عہدیداروں کے تیقن کے نتیجہ میں انہوں نے کئی کام بلز کے بغیر انجام دیئے لیکن اب وہ احتجاج کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ر