جی پی ایس ٹیگ والے گدھ نے4000 کلومیٹر کا سفر مکمل کیا

   

ممبئ : سمت اور علاقے کا پتہ بتلانے والی مشین جی پی ایس نصب کئے ایک سفید رنگت کے گدھ کو جسے ٹیکنالوجی کی زبان جی پی ایس ٹیگ گدھ کے نام سے جانا جاتا ہے ، اسے گزشتہ دنوں مہاراشٹرا کے تاڈوبا-اندھاری ٹائیگر ریزرو جنگلات سے اسکے جسم پر مشین نصب کرکے آزاد کیا گیا تھا۔ اس نے کل تامل ناڈو تک کے 4,000 کلومیٹر کا ایک وسیع سفر مکمل کیا ۔حکام نے یہ اطلاع جمعہ کو دی ۔اس گدھ کا چارہزار کلومیٹر کا سفر طے کرنا جٹایو کنزرویشن پروجیکٹ کے تحت ہندوستان کی گدھ کے تحفظ کی کوششوں کی جانب اہم قدم سمجھا جارہا ہے ۔ اگست 2024 میں ٹیگ کیے جانے والے اس پرندے نے چھتیس گڑھ، گجرات، کرناٹک اور تامل ناڈو کے ذریعے اڑان بھری، جس سے گدھوں کی نقل و حرکت اور رویے کو سمجھنا آسان ہو گیا۔ اپنی ہجرت کے دوران، پرندے نے خراب صحت کی علامات ظاہر کیں اور اسے ایک بار چھتیس گڑھ اور بعد میں گجرات میں دو بار بچایا گیا اور علاج کیا گیا۔ صحت یاب ہونے کے بعد، اس نے متنوع خطوں اور راستوں سے گذرتے ہوئے اپنا سفر دوبارہ شروع کیا۔ بمبئی نیچرل ہسٹری سوسائٹی (بی این ایچ ایس) کے ڈائریکٹر کشور ریٹھے نے کہا، وہ پرندہ جس کو جنگلی ماحول کا کوئی اندازہ نہیں تھا وہ اس وقت تک اڑتا رہا جب تک کہ وہ بیمار نہ ہو گیا، لیکن اسے دو مقامات پر بچا لیا گیا، علاج کیا گیا اور اسے دوبارہ پرواز کے لیے چھوڑ دیا گیا۔