بنگلورو:کرناٹک ہائیکورٹ میںحجاب پر پابندی کے خلاف درخواست پر سماعت 21 فروری تک ملتوی کردی گئی۔کرناٹک ہائیکورٹ کی مکمل بنچ نے ایڈوکیٹ جنرل کو پیر کو بھی اپنی بحث جاری رکھنے کیلئے کہا۔ ریاستی حکومت نے کہا کہ حجاب اسلام میں ضروری نہیں ہے۔ تعلیمی اداروں میں اس کے استعمال کو روکنا دستور کی دفعہ 25 کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے پوچھا کیا حجاب پر پابندی کا حکومتی حکم قبل از وقت تھا؟ عدالت نے کہا، ’’ایک طرف ریاستی حکومت کہتی ہیکہ اعلیٰ سطحی کمیٹی معاملے کی جانچ کر رہی ہے، دوسری طرف حکومت یہ حکم جاری کر تی ہے۔ عدالت کا کہنا ہیکہ کیا یہ ریاست کے متضاد موقف کے مترادف نہیں ہوگا۔اس پر ایڈوکیٹ جنرل کا کہنا ہے کہ ’یقینی طور پر نہیں۔‘‘اسی دوران کالج حکام نے ایک گیسٹ لکچرر کو ماتھے پر تلک لگاکر کالج میں داخل ہونے سے روک دیا اور تلک نکالنے کی ہدایت دی ۔
حجاب پہن کر امتناعی احکامات کی خلاف ورزی
کرناٹک میں بعض طالبات کیخلاف ایف آئی آر درج
بنگلورو : کرناٹک پولیس نے جمعہ کو ضلع تُمکور میں بعض طالبات کے خلاف ایف آئی آر درج کیا ہے۔ الزام ہے کہ ضلع تمکورمیں 15سے 20 طالبات نے گزشتہ دو دنوں میں حجاب پہن کر امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کی ہے جس کے بعد سٹی پولیس نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تمکور کے ایمپریس کالج کے پرنسپل نے ان لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے ۔ طالبات کا کہنا تھا کہ انھیں حجاب پہن کر کلاس میں داخل ہونے دیا جائے، تاہم ایف آئی آر میں کسی کا نام نہیں بتایا گیا ہے ۔یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب کرناٹک ہائی کورٹ نے اپنے عبوری حکم میں کہا ہے کہ جن تعلیمی اداروں مین ڈریس کوڈ نافذ ہے، وہاں حجاب، زعفرانی شال یا کسی اور مذہبی چیزکپڑا پہنچ کر داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ ریاستی حکومت نے ایک سرکلر بھی جاری کیا ہے جس میں اقلیتی بہبود کے محکموں کے ذریعہ چلائے جانے والے تعلیمی اداروں میں مذہبی لباس پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔کرناٹک کے وزیرداخلہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ عدالت کے عبوری حکم پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ایک اور پیشرفت میں پولیس نے کانگریس کے قائد مکرم خان کے خلاف ان کے متنازعہ ’ٹکڑے ۔ ٹکڑے‘ تبصرے کیلئے ایک ایف آئی آر درج کی ہے ۔ کانگریس لیڈر کے خلاف بھی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندو تنظیموں نے اشتعال انگیز تبصروں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔