حجاب پر پابندی مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ:پیس پارٹی

   

پرتاپ گڑھ : حجاب کی روایت ہندوستان کی ثقافت کا ایک جز ہے ،قدیم زمانہ سے یہاں خواتین حجاب کا استعمال کرتی آرہی ہیں ،جس کہ جمہوریت میں آئینی آزادی حاصل ہے ۔ادھر بی جے پی جب سے اقتدار پر قابض ہوئی ہے ،اس نے ملک کے سب سے بڑے اقلیتی طبقے کے مذہبی معاملے میں مداخلت کی جو سازش شروع کی ہے ،اب جبکہ ادھر پانچ صوبوں کے انتخاب سے قبل اپنے زیر اقتدار صوبوں میں حجاب کا معاملہ سامنے لاکر جو طول دیا ہے ،کہ اب اس کی افواہ پھیلا کر آئندہ 2024 کے پارلیمانی انتخاب کو متاثر کرنے کے لئے کوشاں ہے ۔جبکہ آئین میں سبھی کو مساوی مذہبی آزادی حاصل ہے ۔پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے پریس کو جاری ریلیز میں مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا ۔ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ بی جے پی چار صوبوں کے اسمبلی انتخاب میں کامیابی کے بعد ،ان کو یہ معلوم ہو گیا ہے ، کہ عوام کو ترقیاتی کام کے برعکس فرقہ وارانہ بنیاد پر زیادہ متاثر کیا جا سکتا ہے ،جس کے لئے اس نے ابھی سے حجاب کا ایشو لاکر اکثریت کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کا کام شروع کر دیا ہے ۔بی جے پی کو معلوم ہے کہ مسلمان حجاب کے ایشو پر مشتعل ہوگا، تو اس کا فائدہ اس کو حاصل ہوگا ،اور پولرائزیشن کی سیاست کامیاب ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی ہر ہندوستانی کا آئینی حق ہے ،اور جمہوریت میں یہ حق کسی سے چھینا نہیں جا سکتا ۔ آر ایس ایس نے بی جے پی کے زیر اقتدار صوبوں میں حجاب کا ایشو اچھال کر مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر قدغن لگانے کا کام کر رہی ہے ،ایسے حالات میں مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جوش نہیں بلکہ ہوش کے ساتھ آئینی طور پر اس کا مقابلہ کریں ،جمہوریت میں قانون سب سے آعلی ہے ،اور اس کے استعمال کی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کی آئین اجازت نہیں دیتا ۔