حزب اللہ نے لبنان۔اسرائیل معاہدہ مسترد کردیا

,

   

بیروت : 28جون ( یو این آئی ) حزب اللہ نے لبنان اسرائیل معاہدہ مسترد کر دیا۔یہ معاہدہ لبنان پر اسرائیلی قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش ہے، سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم حزب اللہ نے امریکی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والا معاہدہ مسترد کردیا۔حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے ایک بیان میں کہا امریکی ثالثی میں طے پانے والا ’فریم ورک معاہدہ‘ لبنان کی خود مختاری کے خلاف ہے۔ یہ معاہدہ لبنان پر اسرائیلی قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے وہ دن دور نہیں جب لبنانی علاقوں کو اسرائیل میں ضم کردیا جائیگا، لبنان سے اسرائیلی انخلا کو مزاحمتی گروپوں کو غیرمسلح کرنے سے مشروط کرنا خطرناک ہے، سہہ فریقی فریم ورک معاہدہ لبنانیوں کیلئے ملکی خودمختاری سے دستبردار ہونا ہے۔سیکرٹری جنرلنعیم قاسم نے کہا امریکہ اور ایران مفاہمتی یادداشت کے بعد سہہ فریقی فریم ورک معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں، اس معاہدے کے بجائے ایران امریکہ ڈیل کے تحت ہوئے معاہدہ پر عمل ہونا چاہیے۔سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے ساتھ ہی واضح کردیا کہ ہم نے مشکل ترین حالات میں میدان نہیں چھوڑا اور نہ چھوڑیں گے، حزب اللہ لبنان سے اسرائیلی فوجی انخلا تک مزاحمت جاری رکھے گا۔یاد رہیکہ گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی موجودگی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا۔اس معاہدہ کے تحت اسرائیل اپنے شہریوں کو درپیش خطرات کے خاتمے تک اپنی فوج لبنان میں ہی رکھ سکے گا۔لبنان اور اسرائیل نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کے خاتمے پر بھی اتفاق کیا ہے۔اس معاہدے کے ہوتے ہی لبنان کے مختلف شہروں میں فسادات پھوٹ پڑے، بیروت سمیت کئی شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، ٹائر جلا کر احتجاج کیا اورحکومت کے خلاف نعرے لگائے۔