حسین ساگر کے تحفظ میں ناکامی پر تلنگانہ ہائی کورٹ کی برہمی

   

جی ایچ ایم سی اور ایچ ایم ڈی اے کو حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت، مفاد عامہ درخواست کی سماعت
حیدرآباد۔/14 جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے جھیلوں کے تحفظ جیسے حساس مسائل پر حلف نامہ داخل کرنے میں تاخیر پر جی ایچ ایم سی اور حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ( ایچ ایم ڈی اے ) کے رویہ پر ناراضگی جتائی۔ عدالت نے دونوں اداروں کو ہدایت دی کہ اندرون 4 ہفتے حلفنامہ داخل کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کریں کہ حسین ساگر کے مکمل علاقے کے تحفظ میں ناکامی کیوں ہوئی ہے۔ دونوں بلدی ادارے حسین ساگر کی فُل ٹینک لیول کے تحفظ میں ناکامی پر ناراضگی جتائی۔ عدالت نے کمشنر جی ایچ ایم سی اور کمشنر ایچ ایم ڈی اے کو حلفنامہ کے عدم ادخال کی صورت میں شخصی طور پر حاضرِ عدالت ہونے کی ہدایت دی۔ چیف جسٹس ستیش چندر شرما اور جسٹس ابھینند کمار شاولی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کے دوران عبوری احکامات جاری کئے۔ درخواست میں حسین ساگر کے اندرونی اور آبگیر علاقے میں تعمیرات پر پابندی عائد کرنے کی درخواست کی گئی۔ عدالت نے سماجی جہد کار لبنیٰ ثروت کے مکتوب کو مفاد عامہ کی درخواست میں تبدیل کیا اور جی ایچ ایم سی اور ایچ ایم ڈی اے سے جواب طلب کیا۔ ڈھائی برس گذرنے کے باوجود دونوں اداروں کی جانب سے حلفنامہ داخل کرتے ہوئے حسین ساگر کی حقیقی صورتحال سے واقف نہیں کرایا گیا۔ لبنیٰ ثروت نے شکایت کی کہ ایف ٹی ایل کے حدود میں 10 ایکر اراضی پر بڑے پیمانے پر تعمیرات جاری ہیں اور سڑکوں کی تعمیر کا کام انجام دیا جارہا ہے۔ عدالت نے سینئر کونسل ایل روی چندر کو عدالت کی اعانت کیلئے معاون مقرر کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ حساس معاملات کا جواب دینے میں حکام کافی وقت لے رہے ہیں۔ اگر حلفنامہ داخل نہیں کیا گیا تو جی ایچ ایم سی اور ایچ ایم ڈی اے کمشنرس کو عدالت کے روبرو حاضر ہونا پڑے گا۔ر