ابوزہیرحافظ سید زبیر ہاشمی نظامی
حقیقی روایاتی اجتماعات (یعنی فزیکل محفلیں) کا فقدان آج کے معاشرے کا ایک خاموش المیہ بن چکا ہے، جس کے اثرات ہمارے سماجی اور خاندانی تاروپود ( داخلی نظام) کو کمزور کررہے ہیں۔ انٹرنیٹ اوراسمارٹ فون نے ہماری زندگیوں کو جہاں ایک طرف آسان اور معلومات سے مالامال کیا ہے، وہیں انکے بے لگام اور غیر محتاط استعمال نے معاشرتی، اخلاقی اور نفسیاتی سطح پر گہرے منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔
روحانی اور قلبی سکون کا فقدان : بزرگوں اور اپنے خاندانی افراد کی صحبت میں بیٹھنا، اُن کی باتیں سننا اور تجربات سے سیکھنا ایک ایسا روحانی سکون دیتا ہے، جو کسی ڈیجیٹل اسکرین یا ویڈیو کال سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اِس صحبت سے دلوں کو جو تقویت ملتی ہے، وہ تنہائی میں ختم ہو جاتی ہے۔ایکدوسرے کے آمنے سامنے بیٹھنے سے انسان صرف الفاظ نہیں سنتا، بلکہ سامنے والے کے چہرے کے تاثرات، آنکھوں کی زبان، خلوص اور درد کو محسوس کرتا ہے۔ اسمارٹ فون کے ذریعے ہونے والی گفتگو میں یہ روح اور تاثیر غائب ہوتی ہے، جس سے تعلقات میں مصنوعی پن آجاتا ہے۔
بچوں کی تربیت اور خاندانی روایات : پرانی روایات کے مطابق شام کے وقت خاندان کا ایک جگہ جمع ہونا، دسترخوان پر اکٹھے کھانا اور بزرگوں کے پاس بیٹھنا نئی نسل کی اخلاقی تربیت کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ حقیقی روایاتی اجتماعات کے خاتمے سے نئی نسل، خاندانی اقدار سے کٹتی اور دور ہوتی جارہی ہے۔جو لوگ فزیکل محفلوں سے کٹ کر صرف ڈیجیٹل دنیا تک محدود ہوجاتے ہیں، وہ ظاہری طور پر تو ہزاروں دوستوں سے جڑے ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں شدید تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ تنہائی آگے چل کر ڈپریشن اور ذہنی گھٹن کا سبب بنتی ہے۔
پوشیدہ ذہنی دباؤ اور انتشار : مسلسل اسکرین پر نظر جمائے رکھنا، دماغ کو آرام کا موقع نہیں دیتی، جس کی وجہ سے ذہنی سکون ختم ہو رہا ہے اور بے چینی، ڈپریشن اور چڑچڑاپن عام ہوتا جا رہا ہے ۔ خاندانی میل جول کمزور پڑ گئے ہیں۔ لوگ پاس بیٹھے ہونے کے باوجود اپنی اسکرین میں گم رہتے ہیں، جس سے خاندانی و سماجی رشتوں کی گرمجوشی سرد پڑ رہی ہے۔
وقت کا ضیاع اور سستی : گیمس، ریلز اور بے مقصد ویڈیوز میں گھنٹوں ضائع ہو جاتے ہیں، جس سے طلبا و طالبات کی پڑھائی، پیشہ ور افراد کی کارکردگی شدید متاثر ہوتی ہے اور ٹال مٹول کی عادت بڑھتی ہے۔دیر رات تک فون و جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے سے نیند کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ اِس کے علاوہ نظر کی کمزوری، گردن و کمر کا درد اور موٹاپا و دیگر نئی نئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔
اخلاقی و ثقافتی زوال : انٹرنیٹ پر غیر معیاری مواد کی آسان دستیابی، بالخصوص نوجوان نسل (لڑکے و لڑکیوں) کے اخلاقی اقدار، دینی رجحانات اور مثبت روایات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ٹیکنالوجی خود میں کوئی برائی نہیں ہے، اصل مسئلہ تو اُس ٹیکنالوجی کا غلام بن جانا ہے۔ اُس کی تباہ کاریوں سے بچنے کا واحد حل ’’ڈیجیٹل پرہیز، وقت کا تعین اور اس کا شعوری و محدود استعمال‘‘ ہے۔اِس زوال کو روکنے کے لئے بے حد ضروری ہے کہ زندگی میں کچھ اصول بنائے جائیں، جیسے گھر کے اندر افرادخاندان یا مہمانوں کے سامنے بیٹھتے وقت اپنے فون کو سائلنٹ کرکے اپنے سے دور رکھنا، روزانہ کم از کم ایک وقت کا کھانا تو سب کے ساتھ مل کر کھانا اور رشتہ داروں و دوستوں سے باقاعدہ عملی طور پر ملاقاتیں کرنا۔
اسمارٹ فون ضرورت بھی ہے اور مصیبت بھی۔ اب جس کو دیکھو وہ اسمارٹ فون کے ذریعہ بیکاری میں خوب مصروف نظر آرہا ہے۔ کیا روزگار سے جڑا ہوا، کیا بے روزگار، کیا بیٹھنے والا، کیا چلنے والا۔ اب توحد یہ ہوگئی کہ ہر قسم کی گاڑی چلاتے چلاتے بھی اسمارٹ فون کا استعمال عام ہوگیا۔بعض نوجوان گھنٹوں غیرمحرم سے باتوں میں لگے رہتے ہیں۔ نہ اپنے وقت کا خیال، نہ ذمہ داریوں کا احساس اور نہ ہی اپنے مذہبِ اسلام و ایمان کی فکر۔اے انٹرنیٹ و ٹیکنالوجی (یعنی گوگل) کے پیروکارو! جہاں اِس عالَمی فتنے کے ذریعے لوگ اللہ سے دور، رسول سے دور،اہل بیت اطہار سے دور، صحابہ، بزرگان دین اور اپنے اپنے خاندانی بزرگ حضرات کی معیت سے دورہوتے جارہے ہیں تو وہیں شیطان کے قریب، شہوت کے قریب، بے دینوں اور برائیوں کے قریب ہوتے جارہے ہیں۔ انٹرنیٹ و جدید ٹیکنالوجی اور اسمارٹ فون کا استعمال کریں، ضرور کریں، منع نہیں کیا گیا، مگر دائرۂ شریعت میں رہ کراستعمال کریں۔
یاد رکھیں! اسمارٹ فون، سانپ اور بچھو سے بھی زیادہ خطرنا ک ہے۔ سانپ اور بچھو کے ڈسنے سے موت واقع ہوسکتی ہے، مگراسمارٹ فون کے ڈسنے یعنی شرعی حدود پار کرنے سے ایمان کی موت واقع ہوسکتی ہے۔ بے حیائی، عریانی، فحاشی اور بے دینی اتنی عام ہوگئی کہ انٹرنیٹ کے اوپر ننگےننگے بدن والوں؍ والیوں کو گھر بیٹھے دیکھ رہے ہیں۔ اب اِس دنیا میں مُلک مقفل یعنی لاک ڈاؤن کے بعد سے تو اداروں کے انتظامیہ کی طرف سے یہی زور دیا جارہا ہے کہ انٹرٹیٹ سے فلاں فلاں معلومات لے کر آؤ۔
اب بھلا بتلائیے کہ جو بندہ کمپیوٹر، لیاب ٹاپ اور اسمارٹ فون کھول کر کام کر رہا ہو اور سامنے اسکرین پرفحش ننگی ننگی تصاویر آجائیں تو اُس بندے کا ایمان کیسے بچے گا اور نظروں کی حفاظت کیسے ممکن ہوگی؟
انٹرنیٹ تو اتنا عام کر دیا گیا ہے کہ نہ صرف بچے،بچیاں، نوجوان بلکہ اکثر مرد و خواتین بھی گھنٹوں اسکرین کے سامنے بیٹھ کر نہ جانے کیا کیا دیکھ رہے ہوں گے۔ فیس بک، واٹس ایپ، ٹیلی گرام، انسٹاگرام اور نہ جانے کیا کیا ایپ آچکے ہیں، سب کے سب ان تمام انٹرنیٹ سے مربوط اشیاء کے ذریعہ ایک دوسرے سے رابطہ میں ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے اور نیک توفیق عطا فرمائے۔ آمین