حلال سرٹیفائیڈ مصنوعات ،کمپنیوں کیخلاف کارروائی

   

اتر پردیش میں جمعیتہ سمیت کئی تنظیموں پر ایف آئی آردرج
لکھنؤ: اتر پردیش پولیس نے جعلی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے حلال سرٹیفائیڈ مصنوعات فروخت کرنے کے الزام میں کئی کاروباری اداروں کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس کے بعد یوگی حکومت بھی حلال سرٹیفکیٹ جاری کرنے والی کمپنیوں پر سخت ہو گئی ہے اور ان پر کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔ حلال سرٹیفکیٹ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کوئی پروڈکٹ اسلامی قانون کے مطابق تیار کی گئی ہے اور اس میں ملاوٹ نہیں ہے۔پولیس کے مطابق ان کاروباروں نے جعلی دستاویزات کے ذریعے اپنی مصنوعات کیلئے حلال سرٹیفیکیشن حاصل کیا۔ ایف آئی آر میں جن کاروباروں کا نام لیا گیا ہے ان میں سے ایک چنائی میں واقع حلال انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ بھی ہے۔حضرت گنج پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر میں شیلیندر کمار شرما نے الزام لگایا ہے کہ یہ کمپنیاں مختلف مصنوعات کیلئے حلال سرٹیفکیٹ جاری کر رہی ہیں۔ ‘جعلی’ حلال سرٹیفیکیشن مبینہ طور پر کاسمیٹکس، ٹوتھ پیسٹ، تیل اور صابن سے لے کر مختلف قسم کی مصنوعات فروخت کرنے کیلئے استعمال کیے جا رہے تھے۔ پولیس نے اس معاملے میں کئی انجمنوں کو بھی نامزد کیا ہے، جن میں دہلی کی جمعیہ علماء ہند حلال ٹرسٹ، حلال کونسل آف انڈیا اور جمعیتہ علماء ممبئی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 2 ارب مسلمان ہیں جن میں سے تقریباً 40 لاکھ امریکہ میں رہتے ہیں۔ حلال سرٹیفائیڈ مصنوعات امریکہ میں بڑے پیمانے پر فروخت ہوتی ہیں اور دنیا بھر میں بھی پہنچتی ہیں۔ اب حلال کی مانگ بڑھنے لگی ہے اور ہندوستان میں بھی حلال مصنوعات بڑے پیمانے پر فروخت ہو رہی ہیں۔