تہران : ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ان کا ملک مشکل معاشی حالات سے گزر رہا ہے اور عوام مطمئن نہیں ہیں۔پیزشکیان نے اپنی کابینہ کے لیے تجویز کردہ 19 وزیر امیدواروں کی اہلیت کا جائزہ لیے جانے والے عوامی پارلیمانی اجلاس کے آغاز پر ایک تقریر کی۔اس بات کا وعدہ کرتے ہوئے کہ ان کی حکومت لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرے گی، پیزشکیان نے کہا کہ ملک مشکل حالات میں گھرا ہوا ہے اور عوام کو معاشی مشکلات در پیش ہیں۔ معاشی، سماجی، ماحولیاتی، تعلیم اور ثقافتی شعبوں میں ناانصافی اور بے قاعدگی ہر چیز کو متاثر کرتی ہے۔ اپنی تقریر میں انصاف کے مسئلے پر زور دیتے ہوئے، پیزشکیان نے کہا، “حکومت کا فرض ہے کہ وہ منصفانہ برتاوّ کرے اورعوام کو مطمئن کرے۔ یہی وہ اصول ہے جس پر ہم دلی یقین رکھتے ہیں۔ کوئی مذہب، کوئی عقیدہ، کوئی پیغمبر، کوئی امام، کسی بھی انسان کے لیے نا انصافی سے کام نہیں لیتا۔مذہبی ہو یا نہ ہو، ترک، فارسی ہے، عرب، غیر ملکی یا مقامی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ساری جدوجہد عدل و انصاف سے تعلق رکھتی ہے۔یہ بتاتے ہوئے کہ ماضی کے طریقوں سے مسئلہ کو حل کرنا ممکن نہیں ہوگا، پیزشکیان نے کہا، “ہمارا پورا مسئلہ یہ ہے کہ عوام ہم سے خوش رہیں، لیکن آج یہ لوگ ہم سے خوش نہیں ہیں۔ لوگوں کے غیر مطمئن ہونے کا مطلب اللہ کے خلاف جنگ کھڑی کرنا ہے۔ یہ ہماری غلطی ہے ناکہ امریکہ یا غیر ملکیوں کی۔