نفرت پھیلانے والے شرپسندوں کیخلاف کارروائی کی جائے ، ائمہ و موذنین کے اعزازیہ کی بروقت ادائیگی کا مطالبہ
نظام آباد میں جمعیۃ العلماء کا اجلاس عام ، ریاستی صدر مولانا سید شاہ احسان الدین و دیگر علماء کاخطاب
نظام آباد۔ 4 اگسٹ ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ریاستی جمعیۃ علماء تلنگانہ کی ہدایت اور نگرانی میں، جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد کے زیر اہتمام زون نمبر 2 (متحدہ اضلاع نظام آباد، عادل آباد اور کریم نگر) کا اجلاسِ عام بعنوان ’’مسلمانوں کے موجودہ مسائل ‘‘ شہر کے معروف نظام پیالیس فنکشن ہال، بودھن روڈ میں منعقد ہوا،جس میں تینوں اضلاع سے ہزاروں علماء کرام، حفاظ، ائمہ، مؤذنین، دانشوران، سماجی کارکنان، نوجوانوں، معزز شہریوں اور عوام الناس نے شرکت کی۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے برادرانِ وطن کی شرکت نے اس پروگرام کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور باہمی اخوت کی ایک خوبصورت مثال بنا دیا۔اجلاس کا آغاز معروف قاری قاری یونس خان، حیدرآباد کی تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا۔ بعد ازاں معروف نعت خواں احمد حسین ساگر نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعت رسول ﷺ پیش کی۔ سب سے پہلے خطاب کرتے ہوئے مولانا غیاث احمد رشادی نے مسلمانوں کی معاشی پسماندگی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے نوجوانوں کو تجارت، صنعت، جدید ٹیکنالوجی، کاروبار، اسٹارٹ اپس، ہنرمندی، زرعی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع اختیار کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمان صرف ملازمتوں پر انحصار نہ کریں بلکہ خود روزگار پیدا کرنے والے بنیں۔ انہوں نے خواتین کی تعلیم، نوجوانوں کی فنی تربیت، سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے فروغ کو بھی ملت کی ترقی کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔اس کے بعد مولانا حسام الدین جعفر پاشاہ نے اپنے خطاب میں مساجد، مدارس اور دینی اداروں کے تحفظ کے حوالے سے نہایت اہم نکات پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں صرف عبادت گاہوں کی تعمیر کافی نہیں بلکہ ان کی قانونی حفاظت بھی انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے ذمہ دارانِ مساجد و مدارس کو ہدایت دی کہ تمام اراضی کے کاغذات، رجسٹریشن، وقف ریکارڈ، ٹیکس سے متعلق دستاویزات اور دیگر قانونی ریکارڈ مکمل اور محفوظ رکھے جائیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی قانونی پیچیدگی یا تنازع سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دینی اداروں کا تحفظ پوری ملت کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ مولانا مفتی تجمل حسین قاسمی نے نکاح کو آسان بنانے، فضول رسم و رواج کے خاتمے، جہیز کی لعنت سے بچنے، ازدواجی زندگی میں برداشت، صبر اور حسنِ اخلاق کو فروغ دینے پر زور دیا۔طلاق اور خلع کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معمولی اختلافات کو طلاق تک پہنچانا انتہائی افسوسناک رجحان ہے۔ انہوں نے والدین کو اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی تلقین کی۔حافظ پیر خلیق احمد صابر جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء تلنگانہ نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں سے کیے گئے تمام وعدوں کو فوری طور پر پورا کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر اور مذہبی منافرت کا ماحول انتہائی تشویشناک ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تلنگانہ حکومت نے اپنے انتخابی منشور میں ائمہ و مؤذنین کے اعزازیہ میں اضافہ اور بروقت ادائیگی کا وعدہ کیا تھا، مگر آج بھی ہزاروں ائمہ و مؤذنین اس سہولت سے محروم ہیں۔صدارتی خطاب میں حضرت مولانا سید شاہ احسان الدین صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ نے نہایت جامع انداز میں ملت کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے حکومت کے سامنے اہم تجاویز اور مطالبات پیش کیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقلیتوں سے کیے گئے تمام وعدوں پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔ ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والے شرپسند عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ ہیٹ اسپیچ اور ہیٹ کرائم کے خلاف خصوصی قانون بنا کر اسے فوری نافذ کیا جائے۔ائمہ و مؤذنین کے اعزازیہ میں اضافہ کرتے ہوئے بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔اجلاس کی ایک نمایاں خصوصیت مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے برادرانِ وطن کی بڑی تعداد میں شرکت رہی۔ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے نمائندوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی باہمی محبت، مذہبی رواداری اور آئینی مساوات میں مضمر ہے۔انہوں نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ ملک میں امن، بھائی چارہ اور انصاف کے تحفظ کی جدوجہد میں وہ ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور نفرت پھیلانے والی طاقتوں کے خلاف متحد رہیں گے۔مولانا سید سمیع اللہ قاسمی صدر جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد نے افتتاحی کلمات میں تمام مہمانانِ کرام، ریاستی قائدین، علماء، عوام الناس اور متحدہ اضلاع سے تشریف لانے والے شرکاء کا استقبال کیا۔اجلاس کی کارروائی مفتی الیاس احمد حامد قاسمی نے چلائی۔ جناب افضل الدین جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد نے تمام مہمانانِ گرامی، علماء کرام، برادرانِ وطن، میڈیا نمائندگان، کارکنان اور عوام الناس کا شکریہ ادا کیا۔ اجلاس کا اختتام صدرِ اجلاس مولانا سید شاہ احسان الدین کی دعا پر ہوا۔