حکومت قرض حاصل کرنے پر مجبور ۔ گوشت خریدنے والوں پر اضافی قیمتوںکا بوجھ
حیدرآباد۔15۔نومبر(سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے بکروں کی تقسیم کی اسکیم خزانہ پر 16 ہزار کروڑ کا بوجھ عائد کررہی ہے۔حکومت کی جانب سے دھنگروں کو مفت بکروں کی تقسیم کیلئے تلنگانہ اسٹیٹ شیپ اینڈ گوٹ ڈیولپمنٹ کوآپریٹیو ڈیولپمنٹ فیڈریشن لمیٹڈ کو 4000 کروڑ قرض حاصل کرنے کی ضمانت فراہم کی ہے جبکہ مزید 5000 کروڑ کی اجرائی کے اقدامات جاری ہیں۔ اس قرض کی مدت 7سال ہے اور 7برسوں میں یہ قرض ادا کردیئے جانے پر بھی اس قرض کیلئے سود کے ساتھ 16ہزار کروڑ روپئے ادا کرنے ہونگے۔فورم فار گوڈ گورننس نے نیشنل کوآپریٹیو ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو مکتوب روانہ کرکے خواہش کی کہ وہ اسکیم کو جاری رکھنے قرض کی دوسری قسط کی ادائیگی سے قبل غیر جانبدار ادارہ سے اسکیم کے قد و خال کا جائزہ لینے اور اس کے فوائد کے متعلق تفصیلات حاصل کرنے کے بعد وائٹ پیپر جاری کرکے دوسری قسط کی اجرائی کے متعلق فیصلہ کرے۔ اس اسکیم کے متعلق کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے جو قرض حاصل کیا جارہا ہے اس کے استعمال پر فورم فار گوڈ گورننس کو شبہات ہیں جبکہ ریاست بالخصوص شہر میں بکرے کے گوشت کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا اور اس پر کنٹرول کرنے کوئی میکانزم نہیں ہے بلکہ تاجرین من مانی قیمتوں میں گوشت فروخت کر رہے ہیں جبکہ حکومت سے ریاست کے خزانہ پر 16ہزار کروڑ کا بوجھ عائد کرکے دھنگروں کو مفت مویشی فراہم کئے جا رہے ہیں ۔ دھنگروں کی جانب سے مویشی پالنے اور انہیں فروخت کے ذریعہ آمدنی حاصل کی جا رہی ہے لیکن اگر اسکیم کا باریکی سے جائزہ لیا جائے تو مفت بکرے اور مویشی حاصل کرنے والے مزے میں ہیں جبکہ بکرے کا گوشت خریدنے والوں پر جو معاشی مار پڑرہی ہے وہی آئندہ 7 برسوں میں مفت بکروں کیلئے محصلہ قرض کی ادائیگی بھی کریں گے کیونکہ سرکاری خزانہ پر عائد بوجھ کو کم کرنے حکومت کی جانب سے ٹیکس اور قیمتوں میں اضافہ کے ذریعہ ہی ریاستی آمدنی میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔بکرے کے گوشت کی قیمت میں اضافہ سے پریشان شہری آئندہ 7 برسوں میں مفت بکروں کی تقسیم کیلئے لئے گئے قرض کی ادائیگی بھی اپنی جیب سے کرنے پر مجبور ہوں گے لیکن انہیں احساس ہونے نہیں دیا جائے گا۔م