پروفیسر جاوید احمد حجم پر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے الزامات سپریم کورٹ میں مسترد
حیدرآباد۔8۔مارچ۔(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے کئے جانے والے فیصلوں پر اختلاف رائے رکھنے اور ان پر اعتراض کرنے کا ہر شہری کو حق حاصل ہے۔ سپریم کورٹ نے مہاراشٹرا ہائی کورٹ کے احکامات کوکالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے ہر شہری کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ حکومت کے کسی بھی فیصلہ پر تنقید یا اعتراض کرسکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کولہا پور مہاراشٹرا کی جانب سے پروفیسر جاوید احمد حجم پرفرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے الزامات کے مقدمہ کو برخواست کرتے ہوئے مہاراشٹرا ہائی کورٹ کے فیصلہ کو کالعدم قراردیا۔ واٹس ایپ پر کشمیر سے دفعہ 370 کی تنسیخ پر 5اگسٹ کو کشمیر کیلئے یوم سیاہ قرار دیئے جانے اور 14 اگسٹ کو یوم آزادی پاکستان کی مبارکباد دیئے جانے پر کولہا پور پولیس نے پروفیسر جاوید احمد حجم کو فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے مقدمہ میں ماخوذ کیا تھا۔سپریم کورٹ نے پاکستان یا کسی اور ملک کے شہریوں کو ان کے یوم آزادی پر مبارکباد دینے یا نیک تمناؤں کے اظہار پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کسی ملک کے شہری کو ان کے یوم آزادی پر مبارکباد دینے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ جسٹس ابھئے ایس اوکا اور جسٹس اوجل بھویان پر مشتمل بنچ نے دستور ہند کی دفعہ 19 کی شق 1 الف میں ہندستان کے ہر شہری کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ حکومتوں کے کسی بھی فیصلہ پر اختلاف رائے رکھنے کے علاوہ اظہار خیال کرسکتا ہے۔3