حیدرآباد میں آئندہ پانی کے بحران کا اندیشہ،پانی کی موجودہ سربراہی دو تا تین ماہ تک ہی محدود : واٹر بورڈ

   

حیدرآباد ۔ 22 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد میں پینے کے پانی کی ایمرجنسی صورتحال کے مسئلہ کا امکان ہے کیوں کہ واٹر بورڈ نے وارننگ دی ہے کہ شہر میں پانی کی موجودہ سربراہی مزید دو تا تین ماہ ہی تک ہوسکتی ہے ۔ مانسون ختم ہوگیا ہے ، لیکن ذخائر آب میں پانی کی سطح بہت گھٹ گئی ہے ، زیر زمین پانی کے ذخائر دباؤ میں ہیں اور روزانہ کی ٹینکر بکنگس میں 6000 تا 7000 کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ اگر صورتحال مزید خراب ہوگئی تو گھروں کو پانی کی سربراہی موجودہ ایک دن کے وقفہ کے بجائے تین میں ایک مرتبہ ہوسکتی ہے ۔ ریاستی حکومت نے تعمیرات کے لیے اور پینے کے پانی کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے نئے بورویلس پر پابندی عائد کی ہے جب کہ ہنگامی اقدامات کے لیے تیاری کی جارہی ہے ۔ موسم گرما شروع ہونے ابھی چند مہینوں کا وقت ہے صورتحال ہولناک معلوم ہوتی ہے ۔ گریٹر حیدرآباد میں پینے کے پانی کی محدود سربراہی ہوسکتی ہے کیوں کہ حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے پانی کی سربراہی ایک دن کے وقفہ کے بجائے تین دن میں ایک مرتبہ کرنے پر غور کیا جارہا ہے ۔ عہدیداروں نے انتباہ دیا کہ ذخائر آب میں قابل لحاظ پانی کی آمد کے بغیر شہر میں پانی کی سربراہی کا موجودہ موقف دو تا تین ماہ تک ہی برقرار رہ سکتا ہے ۔ حکومت اور واٹر بورڈ کی جانب سے گرما سے قبل پینے کے پانی کی سپلائی کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔ ذخائر آب کی سطح میں بہت کمی ہوگئی ہے ۔ سنگور میں جس کی اسٹوریج کپاسٹی 29.917tmcft ہے فی الوقت صرف 3tmcft سے قدرے زیادہ ہے جب کہ گذشتہ سال اسی وقت اس کی کپاسٹی 16tmcft سے زیادہ تھی ۔ مانجرا کی اسٹوریج کپاسٹی 1.500tmcft ہے جو اب تقریبا 0.250tmcft تک گھٹ گئی ہے ۔ ناگرجنا ساگر میں اس کی فل کپاسٹی 312tmcft کے مقابل تقریبا 188tmcft ہے ۔ ذخائر آب میں کمی سے آئندہ مہینوں میں پانی کی سربراہی کے تعلق سے تشویش پیدا ہوگئی ہے ۔ خاص طور پر حیدرآباد کے شمالی اور مغربی حصے ، سنگور اور مانجرا پر ان کے انحصار کی وجہ زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں ۔ شہر میں پینے کا پانی کئی ذرائع سے آتا ہے بشمول کرشنا ، گوداوری ، سنگور ، مانجرا ، حماے ساگر اور عثمان ساگر سے ۔ سپلائز کی برقراری کا انحصار ذخائر آب کے اسٹوریج پمپنگ کپاسٹی اور دستیاب متبادل ذرائع پر ہوگا ۔۔ a/m/b