حیدرآباد میں نئے (PRT) ٹرانسپورٹ سسٹم کی تیاری زیرغور

   

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے 3 مجوزہ کویڈورس کو ابتدائی منظوری دی، چوتھے کوریڈور میں بہتری کی ہدایت
حیدرآباد ۔ 24 اکٹوبر (سیاست نیوز) حیدرآباد کے ٹریفک نظام کو مزید جدید اور تیز رفتار بنانے کیلئے ریاستی حکومت نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے شہر کیلئے پیش کردہ جدید ترین ٹرانسپورٹ سسٹم ’’پرسنل ریپڈٹرانزٹ‘‘ (PRT) کے چار مجوزہ کوریڈورس میں سے تین کو کوریڈورس کو ابتدائی منظوری دے دی ہے۔ حکومت میٹرو ریل (MMTS) اور آر ٹی سی بس سرویس جیسے موجودہ پبلک ٹرانسپورٹ سسٹمس کے ساتھ لاسٹ مائل کنیکٹیویٹی اور باہمی رابطہ قائم کرنے مقصد سے پی آر ٹی سسٹم متعارف کرانے کا منصوبہ تیار کررہی ہے۔ اس پراجکٹ کیلئے مطالعہ اور فزیبلیٹی رپورٹ تیار کرنے کی ذمہ داری LEA Associates کو سونپی گئی تھی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ایجنسی کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد تین اہم روٹس رائے درگم تا کوکٹ پلی کوریڈور، ہائی ٹیک سٹی تا رائے درگم نالج سٹی کوریڈور، کونڈہ پور تا فینانشیل ڈسٹرکٹ کوریڈور، چوتھے کوریڈور کی تجویز اسمبلی لکڑی کا پل، سکریٹریٹ اور ٹینک بنڈ کے اطراف کے علاقوں کیلئے پیش کی گئی ہے۔ تاہم چیف منسٹر نے ہدایت دی ہیکہ اس روٹ کا مزید باریک بینی سے جائزہ لے کر اسے بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے خاص طور پر رانی گنج تک رابطے کی فزیبلٹی جانچنے کی ہدایت دی کیونکہ اس روٹ پر ریلوے ٹریکس اور دیگر تکنیکی چیلنجس کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے طابق PRT سسٹم کی فی کیلو میٹر تعمیراتی لاگت 120 کروڑ سے 180 کروڑ روپئے کے درمیان ہوگی۔ چیف منسٹر نے زور دے کر کہا کہ اس پراجکٹ میں جدید ترین اور محفوظ ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے کیونکہ حکومت کیلئے عوام کی حفاظت، آمدنی اور منافع سے زیادہ اہم ہے۔ اب مطالعہ کرنے والی ایجنسی ان منظور شدہ تینوں کوریڈورس میں سے راستے کی نشاندہی کرے گی جس سے عوام کی سب سے بڑی تعداد کو براہ راست فائدہ پہنچے۔ ایجنسی ہر کوریڈور کیلئے تین متبادل راستے بھی حکومت کو تجویز کرے گی۔2