اندرون پانچ ماہ قیمتیں تقریباً دو گنی ، ہوٹل اور ٹفن سنٹرس کے مالکین بحران کا شکار
حیدرآباد ۔ یکم ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد کے بشمول ملک بھر کے ہوٹل مالکین ، ریسٹورانوں اور کیٹرنگ کا کاروبار کرنے والے تاجروں کو مرکز کی جانب سے ایک بار پھر مہنگائی کا بڑا جھٹکا لگا ہے ۔ آئیل کمپنیوں نے یکم جون سے 19 کلو گرام والے کمرشیل ایل پی جی گیاس سیلنڈرس کی قیمتوں میں مزید 42 روپئے کا اضافہ کردیا ہے ۔ اس حالیہ اضافے کے بعد اب حیدرآباد میں ایک کمرشیل گیاس سیلنڈر کی قیمت 3294 روپئے کی بلند ترین ریکارڈ سطح پر پہونچ گئی ہے ۔ جس نے شہر کے چھوٹے اور بڑے تاجروں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔ حیدرآباد میں کمرشیل سیلنڈر کی قیمت 3294 روپئے تک پہونچنے سے شہر کے ہوٹلوں ، ٹفن سنٹرس اور فاسٹ فوڈ اوٹ لٹس کے مالکان شدید بحران کا شکار ہوگئے ہیں ۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ کمرشیل گیاس کی قیمتوں میں اس قدر بے تحاشہ اضافے سے ان کے روزمرہ اخراجات برقرار رکھنا ناممکن ہوتا جارہا ہے ۔ کمرشیل گیاس سیلنڈر کی قیمتوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس سال کے آغاز سے اب تک ان میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے ۔ محض پانچ ماہ کے مختصر عرصے میں کمرشیل سیلنڈر کی قیمت تقریباً دو گنی ہوچکی ہے ۔ اس سال جنوری میں جو سیلنڈر 1,691.50 روپئے کا تھا وہ اب جون میں بڑھ کر 3,294 روپئے ہوچکا ہے ۔ فروری میں پہلی مرتبہ قیمتوں میں 49 روپئے کا اضافہ کیا گیا ۔ مارچ میں 115 روپئے بڑھائے گئے ۔ اپریل میں 993 روپئے کا زبردست اضافہ کیا گیا اب یکم جون کو مزید 42 روپئے کا اضافہ کیا گیا ۔ اس کے ساتھ ہی ہوٹلوں اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی ۔ جس کا براہ راست بوجھ عام عوام کی جیب پر پڑے گا ۔۔ 2/m/b