حیدرآباد کے اطراف چوتھے شہر کے قیام سے زمینات کے کاروبار میں اضافہ : بنڈی سنجے

   

کانگریس قائدین کو فائدہ پہنچانے کی کوشش، کانگریس پر بی آر ایس کے نقش قدم پر چلنے کا الزام
حیدرآباد۔/4 اگسٹ، ( سیاست نیوز) مرکزی مملکتی وزیر داخلہ بنڈی سنجے کمار نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت حیدرآباد، سکندرآباد اور سائبرآباد کے ساتھ چوتھا شہر بسانے کے نام پر بڑے پیمانے پر اراضی معاملات کی تیاری کررہی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بنڈی سنجے کمار نے کہا کہ چوتھے شہر کے قیام کے پیچھے اراضیات کے کاروبار کی سازش کارفرما ہے۔ مہیشورم اسمبلی حلقہ میں کانگریس قائدین نے ہزاروں ایکر اراضی حاصل کرلی ہے اور چوتھے شہر کے نام پر رئیل اسٹیٹ کاروبار کے ذریعہ ہزاروں کروڑ روپئے کی آمدنی کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین کو فائدہ پہنچانے کیلئے ریونت ریڈی حکومت نے چوتھے شہر کو بسانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھرانی کے نام پر تقریباً دو لاکھ کروڑ کا اسکام انجام دیا گیا جو ملک میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اسکام ہے۔ کانگریس قائدین بھی اسی راستہ پر چلتے ہوئے اپنی اراضیات کے ذریعہ کروڑہا روپئے حاصل کرنے کی تیاری میں ہیں۔ بنڈی سنجے کمار نے آج مہیشورم اسمبلی حلقہ میں بونال تقاریب میں حصہ لیا۔ اس موقع پر چیوڑلہ کے رکن پارلیمنٹ وشویشور ریڈی، بی جے پی کے نائب صدر جی منوہر ریڈی، ضلع صدر نرسمہا ریڈی اور دیگر قائدین موجود تھے۔ بنڈی سنجے کمار نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت ہندو تہواروں کو نظرانداز کررہی ہے۔ رمضان المبارک کیلئے 33 کروڑ جاری کئے گئے جبکہ تبلیغی جماعت کیلئے 2 کروڑ 40 لاکھ کی اجرائی عمل میں لائی۔ بونال اور دیگر تہواروں کیلئے معمولی رقم مختص کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت مجلس کے اشارہ پر کام کررہی ہے۔ انہوں نے پیش قیاسی کی کہ تلنگانہ میں کانگریس کا حشر بی آر ایس کی طرح ہوگا۔ کانگریس اگر مجلس پر بھروسہ کرتی ہے تو پھر اس کا زوال یقینی ہے۔ بنڈی سنجے کمار نے کہا کہ مرکزی حکومت تلنگانہ کی ترقی کیلئے ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے گذشتہ دس برسوں میں تلنگانہ کیلئے بھاری فنڈز جاری کئے تھے۔ بنڈی سنجے کمار نے کہا کہ مرکزی بجٹ اور ریلوے بجٹ میں تلنگانہ کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کیلئے قرض معافی اسکیم کے تحت ابھی تک 70 ہزار کسانوں کو بھی فائدہ نہیں پہنچا۔ قرض معافی سے متعلق حکومت بلند بانگ دعوے کررہی ہے جبکہ حقیقت میں کسان قرض میں ابھی بھی مبتلاء ہیں۔ گریٹر حیدرآباد کے مضافات میں موجود 33 گرام پنچایتوں، 20 میونسپلٹیز اور 8 کارپوریشنوں کو ضم کرنے کی تجویز ریاستی حکومت کے زیر غور ہے اور اس فیصلہ سے عوام پر ٹیکس کے بوجھ میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مضافاتی علاقوں کے عوام کی منظوری کے بغیر ہی حکومت علاقوں کو گریٹر حیدرآباد میں ضم کرنے کی تیاری میں ہے۔1