حیدرآباد کے سرکاری اسکولس میں اردو ٹیچرس کی کمی

   

پسماندہ طبقات کیلئے مختص جائیدادوں پر تقررات کے نوٹیفکیشن کی اجرائی کے باوجود امیدوار دستیاب نہیں
2024 میں 184 جائیدادوں پر تقررات کیلئے صرف 80 امیدواروں نے درخواستیں داخل کی تھی
حیدرآباد ۔ 10 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : محکمہ تعلیم سرکاری اسکولس میں اردو پڑھانے والے اساتذہ کے لیے پیشگی منصوبہ بندی تیار کررہا ہے ۔ حیدرآباد کے سرکاری اسکولس میں سکنڈری گریڈ ٹیچرس ( ایس جی ٹی ) کی ڈیمانڈ کے لحاظ سے تعداد نہیں ہے ۔ جس کی وجہ سے مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات نہیں ہورہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے حکومت نے ڈی ایس سی 2024 نوٹیفیکیشن کے ذریعہ 184 جائیدادوں پر تقررات کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ لیکن صرف 80 افراد نے درخواستیں داخل کی تھی تازہ طور پر ان افراد کی تفصیلات اکٹھا کی جا رہی ہیں جنہوں نے حال ہی میں ٹیچر اہلیت ٹسٹ ( ٹیٹ ) کیلئے درخواستیں داخل کی تھیں ۔ رولس آف ریزرویشن کے تحت اردو میڈیم کی جائیدادوں کیلئے ایس سی ۔ ایس ٹی اور او بی سی طبقات کیلئے بھی جائیدادیں مختص کی گئی ہیں ۔ محکمہ تعلیم کے ضلعی عہدیداروں نے بتایا کہ شہر میں غیر مسلمانوں کی اردو میڈیم میں انٹر میڈیٹ اور ڈی ای ڈی مکمل کرنے والے نہ ہونے سے اردو میڈیم کی جائیدادیں مخلوعہ رہ جاتی ہیں ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اردو میڈیم ڈی ای ڈی کی تعلیم مکمل کرنے پر مستقبل میں جب بھی ٹیچرس تقررات کیے جائیں گے انہیں ملازمتوں کے صد فیصد مواقع دستیاب ہوں گے ۔ ٹیچرس کی جائیدادوں پر تقررات میں ان مخلوعہ جائیدادوں کو بیاگ لاگ فہرست میں شامل کیا جارہا ہے ۔ مستقبل میں حکومت ٹیچرس کی جائیدادوں پر تقررات کیلئے اعلامیہ جاری کرتی ہے تو ضلع کے اردو اسکولس میں طلبہ و اساتذہ کے تناسب کی بنیاد پر جائیدادوں کا حساب لگایا جائے گا اور بیاگ لاگ سے زیادہ موصول درخواستوں کو ملا کر نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے گا ۔ اردو میڈیم اسکولس میں اردو پڑھانے صرف BC-E طبقہ کے امیدوار چاہئے ۔ شہر میں اردو میڈیم تعلیم پانے والوں کی تعداد کم ہے ۔ دسویں تک اردو میڈیم میں تعلیم حاصل کرنے والے امیدوار انٹر میڈیٹ ، ڈگری ، انجینئرنگ کے کورسیس میں انگریزی میڈیم کا انتخاب کررہے ہیں ۔ او سی اور بی سی طبقات سے ڈی ای ڈی کرنے والے ٹیچرس کی جائیدادوں پر تقررات کیلئے درخواستیں داخل کررہے ہیں ۔ گذشتہ 10 سال سے پسماندہ طبقات کیلئے مختص جائیدادوں پر تقررات کیلئے نوٹیفیکیشن کے باوجود ریزرویشن کے مطابق مناسب تعداد میں امیدوار دستیاب نہیں ہورہے ہیں ۔۔ 2