تہران 4 جولائی ( ایجنسیز) ایران کی تائید والے گروپس حزب اللہ اور حماس کے نمائندوں نے ایران کے شہید رہنماء آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازہ میں شرکت کی اور انہوں نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی ۔ سرکاری میڈیا نے یہ اطلاع دی ۔ ایران کی جانب سے حماس ‘ لبنان کے حزب اللہ اور یمن کے حوثیوں کی تائید و حمایت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ حزب اللہ کے وفد میں تنظیم کے مہلوکین کے لواحقین اور زخمی ارکان شامل تھے ۔ کہا گیا ہے کہ حزب اللہ کے سینئر عہدیدار اور سابق وزیر محمد فنیش نے وفد کی قیادت کی ۔ اس دوران حماس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے وفدک ی قیادت حماس پولیٹیکل بیورو کے سربراہ محمد درویش نے کی جبکہ وفد کے میں بیورو کے ارکان بھی شامل تھے ۔
روس کیف پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیگا:سابق سی آئی اے افسر
ماسکو، 4 جولائی (اسپوتنک/یواین آئی) سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے ) کے سابق انٹیلی جنس افسر لیری جانسن نے کونسٹنٹینووکا کے حالیہ قبضے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “روس بالآخر کیف پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لے گا۔”مسٹر جانسن نے روسی خبر رساں ایجنسی اسپوتنک کو بتایا کہ “روس اوڈیسا کا کنٹرول بھی دوبارہ حاصل کر لے گا۔ اس کی افواج دریائے ڈینیپر کی طرف پیش قدمی کریں گی اور ممکن ہے کہ کچھ جگہوں پر وہ اس سے آگے بڑھ جائیں۔”مسٹر جانسن کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن نے واضح کیا کہ روسی فوج کو شہری اہداف پر حملوں سے گریز کرنا چاہیے اور اگر حملے کیے جاتے ہیں تو جانی نقصان کو کم سے کم رکھا جانا چاہیے ، جبکہ روس پر مغربی ممالک کے حملے اسے سیکیورٹی بفر زون کو مزید وسعت دینے پر مجبور کریں گے ۔
گیس لیک سانحہ میں ہلاکتوں کی تعداد 18 ہوگئی
چنئی، 4 جولائی (یو این آئی) تمل ناڈو کے پڑوسی ضلع تروولور میں ایک نجی بحری غذائی مصنوعات کی پروسیسنگ اور برآمدی یونٹ میں 21 جون کو پیش آئے گیس اخراج کے سانحہ میں مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 18 ہو گئی ہے ، جبکہ ضلع انتظامیہ نے تمام حفاظتی ضوابط پر عمل کرکے فیکٹری احاطے میں جمع امونیا گیس کو نکالنے کا عمل ہفتہ کو شروع کر دیا۔ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق زہریلی گیس سے متاثر ہو کر زیر علاج ایک اور خاتون نے جمعہ کی شام دم توڑ دیا، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 18 ہو گئی۔ تمام مہلوکین خواتین ہیں، جن میں اکثریت اڈیشہ سے تعلق رکھنے والی مزدور خواتین کی ہے ، جبکہ دو خواتین آسام اور ایک جھارکھنڈ کی رہائشی تھیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے جاری میڈیکل بلیٹن میں بتایا گیا کہ اس سانحے میں مجموعی طور پر 83 ملازمین متاثر ہوئے تھے ۔ ان میں سے 51 کو اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا جبکہ 14 زیر علاج ہیں ۔ ان میں ایک مریض وینٹی لیٹر پر اور دوسرا آکسیجن سپورٹ پر ہے ، جبکہ باقی 12 کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے ۔ بیان کے مطابق متاثرہ 14 ملازمین کا مختلف اسپتالوں میں علاج جاری ہے ۔ ان میں سات کا علاج راجیو گاندھی گورنمنٹ جنرل اسپتال، چار کا ویلز اسپتال، دو کا ترووللور کے وینکٹیشور اسپتال اور ایک کا چینائی کے گورنمنٹ اسٹینلے میڈیکل کالج اسپتال میں کیا جا رہا ہے ۔
آیت اللہ خامنہ ای کی میت عوامی دیدار کیلئے رکھ دی گئی
ِمصلی امام خمینی کے دروازے عوام کیلئے کھول دئے گئے ۔ تدفین کا تفصیلی شیڈول جاری
تہران، 4 جولائی (یو این آئی) شہید رہبرِ اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت تین روز عوامی دیدار کیلئے رکھ دی گئی ، گرینڈ مصلیٰ میں آیت اللہ علی خامنہ ای کو الوداع کہنے عوام کا سمندر اُمڈ آیا ۔ تفصیلات کے مطابق ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور الوداعی مراسم کا آغاز ہو گیا، جس میں شرکت کیلئے دنیا بھر سے اعلیٰ شخصیات اور سوگواروں کا تہران میں جمِ غفیر جمع ہے ۔شہید رہبرِ اعلیٰ کو الوداع کہنے تہران کی سڑکوں پر عوام کا سمندر امڈ آیا اور فضا انتقام اور امریکہ مخالف نعروں سے گونج اٹھی۔شہید سپریم لیڈر اور ان کے اہل خانہ کے اجسادِ خاکی آخری دیدار کیلئے تہران کے ‘مصلیٰ امام خمینی کمپلیکس ‘گرینڈ مصلیٰ) میں رکھ دیے گئے ہیں۔گرینڈ مصلیٰ کے دروازے عوام کیلئے کھول دیے گئے ہیں، جہاں لاکھوں سوگوار شدید غم و اندوہ کی حالت میں اپنے قائد کا آخری دیدار کر رہے ہیں۔ عوام آج اور کل رات 8 بجے تک شہید رہبر کا آخری دیدار کر سکیں گے ۔جمعہ کو تعزیتی تقریب میں دنیا بھر کے قائدین اور وفود نے شرکت کی اور شہید خامنہ ای کو خراجِ پیش کیا، تعزیتی اجتماعات میں تقریباً 100 سے زائد ممالک کے مہمان شریک ہو رہے ہیں۔جن میں پاکستان ، ترکیہ، قطر، اور سعودی عرب سمیت دنیا بھر کے قائدین شخصیات اور وفود شامل تھے جبکہ حزب اللہ کے شہید رہنماؤں کے ورثاء بھی خصوصی طور پر دعائیہ تقریب میں شریک ہوئے ۔دوسری جانب شہید سپریم لیڈر کے آخری سفر اور تدفین کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا گیا ہے ، جس کے تحت تہران میں مرکزی نمازِ جنازہ کا سب سے بڑا اجتماع کل صبح منعقد کیا جائے گا۔6 جولائی کو تہران میں مقامی وقت کے مطابق صبح 6:00 بجے جنازے کا باقاعدہ جلوس شروع ہوگا اور 7 جولائی کو جنازے کا جلوس تہران سے ایران کے مقدّس شہر قُم منتقل کیا جائے گا۔8 جولائی کو تدفین سے قبل جسدِ خاکی کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جہاں عراق میں جنازے کے جلوس نکلیں گے اور 9 جولائی کو آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائیگا ۔ ایران میں اس وقت شدید سوگ کا سماں ہے اور تمام سیکیورٹی اور انتظامی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے تاکہ دنیا بھر سے آنے والے زائرین اور مہمانوں کو سہولت فراہم کی جا سکے ۔