خواتین کا مجرمانہ سرگرمیوں میں بڑھتا ہوا رجحان

   

سائبر جرائم اور منشیات کے ریاکٹ میں لڑکیاں کٹھ پتلیاں بن رہی ہیں
حیدرآباد ۔ 10 مئی (سیاست نیوز) مالیاتی مشکلات ہوں یا خاندانی حالات چاہے کچھ بھی دھوکہ باز خواتین کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھارہے ہیں۔ اے او بی سے گانجہ منتقل کرنے اسکارٹس کا استعمال کیا جاراہ ہے۔ نائجیرین منشیات کی سلطنت میں لڑکیاں کٹھ پتلی بن کر کچلی جارہی ہیں۔ سائبردھوکہ بازوں کی ایجنٹس بن کر ٹیلی کالرز کی مدد کرتے ہوئے مقدمات میں پھنس رہی ہیں۔ مختلف جرائم میں دس خواتین کی حالیہ گرفتاری صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔ نائجیریا سے روزگار کیلئے دہلی پہنچنے والی ایک خاتون منشیات کے گروہ سے متعارف ہونے کے بعد کوریربن گئی۔ اس کا کام اسمگلرس کے حکم کے مطابق سامان پہونچانا ہوتا ہے۔ اگر مزاحمت کی گئی تو نہ صرف شدید ہراساں کیا جائے گا بلکہ جان سے مارنے کی بھی دھمکی دی جارہی ہے ۔ یہ ان کیسیس میں سے ایک ہے جو TG NAB کی جانب سے ایک انٹرنیشنل ڈرگ حوالہ ریاکٹ کو ختم کرتے وقت سامنے آیا ہے۔ نائجیریا منشیات کے گروہ سوشل میڈیا کے ذریعہ نوجوان خواتین کو نشانہ بنارہے ہیں۔ انہیں نوکری اور روزگار کے موقع فراہم کررہے ہیں اور ساتھ ہی کمیشن ادا کرنے کا وعدہ کرتے ہیں اور پارسل کی ڈیلیوری مقررہ منزل تک پہنچائی جارہی ہے۔ اس جال میں پھنس جانے والی لڑکیوں کو پارسل میں کاسمیٹکس کی مصنوعات ہونے کا یقین دلایا جاتا ہے۔ اگر انہیں منشیات کے کاروبار کا پتہ چل جاتا ہے تو اس دلدل سے نکلنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جاتی۔ مختلف کیسیس میں پھنسا دینے اور جان سے ماردینے تک بھی دھمکی جاتی ہے۔ دہلی پہنچنے والے پارسل کو ممبئی، گوا، حیدرآباد، بنگلور اور دوسرے شہروں کو منتقل کرنے کیلئے ہر ماہ ایک لڑکی کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ ٹی جی نیاب کے عہدیداروں نے بتایا کہ نائجیریا کے ڈرگ ڈاٹ ایبوکا کے ایجنٹس کے طور پر 50 تا 60 لڑکیاں کام کررہی ہیں۔2