خواتین کے تحفظات اور نئی حد بندی پر حکومت۔اپوزیشن میں اختلافات

   

33 فیصد تحفظات بل پر سیاسی رسہ کشی، کانگریس مذاکرات سے گریزاں: کرن رجیجو
مرکزی وزیر کا راہول گاندھی پر بل کی منظوری میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام

نئی دہلی، 21 اکتوبر (ایجنسیز) خواتین کو قانون ساز اداروں میں 33 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے بل اور پارلیمانی حلقہ بندی کے معاملے پر مرکزی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے الزام عائد کیا ہے کہ کانگریس اور لوک سبھا میں قائداپوزیشن راہول گاندھی حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے آگے نہیں آرہے، جس کے باعث مجوزہ قانون سازی پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے۔ رجیجو نے یہ بات 21 اکتوبر کو ہندوستان ٹائمز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ رجیجو کے مطابق حکومت نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کو تین خطوط لکھے اور راہول گاندھی سے بھی ذاتی طور پر ملاقات کرکے بات چیت کی دعوت دی، لیکن کانگریس کی جانب سے مثبت جواب نہیں ملا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سماج وادی پارٹی، ڈی ایم کے اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے مذاکرات کیے ہیں اور اپنے تحفظات پیش کیے ہیں۔ حلقہ بندی کے معاملے پر مختلف اپوزیشن جماعتوں کا اہم تحفظ یہ ہے کہ لوک سبھا کی نشستوں کی نئی تقسیم میں کسی ریاست کا موجودہ متناسب حصہ کم نہیں ہونا چاہیے۔ رجیجو نے کہا کہ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی ریاست کی نشست کم نہیں ہوگی اور ریاستوں کو متناسب طور پر اضافی نشستیں ملیں گی۔ تاہم، اس یقین دہانی کی قانونی صورت، مجوزہ بل کی تفصیلات اور نشستوں کی نئی تقسیم کا طریقہ کار اب بھی اہم سوالات ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے خواتین کے تحفظات کو نئی حد بندی سے الگ کرکے موجودہ نشستوں کی بنیاد پر نافذ کرنے کی تجویز بھی زیرِ بحث رہی ہے۔ رجیجو نے اس تجویز پر حکومت کے حتمی فیصلے کی وضاحت نہیں کی۔ اس طرح تنازعہ کا مرکزی نکتہ صرف خواتین کے تحفظات کی حمایت یا مخالفت نہیں، بلکہ ان کے نفاذ کے طریقہ کار، لوک سبھا کی توسیع اور ریاستوں کے درمیان نمائندگی کے توازن سے بھی متعلق ہے۔ مرکزی حکومت کا موقف ہے کہ آبادی میں اضافے کے پیش نظر پارلیمانی نمائندگی کے ڈھانچے پر نظرثانی ضروری ہے اور خواتین کے تحفظات کو نافذ کرنے میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ دوسری جانب، مجوزہ حلقہ بندی کے اثرات اور ریاستوں کی نمائندگی کے تحفظ سے متعلق اپوزیشن جماعتوں کے خدشات پر تفصیلی وضاحت اور اتفاقِ رائے کی ضرورت برقرار ہے۔