مسلم تنظیموں و مساجد کے ذمہ داروں کا اجلاس، اسمبلی انتخابات میں حکمت عملی اختیار کرنے کا انتباہ
حیدرآباد۔8۔جنوری(سیاست نیوز) سیاسی وابستگیوں سے بالاتر مسلم تنظیموں کے ذمہ داروں و مساجد سے تعلق رکھنے والوں نے آج حلقہ اسمبلی خیریت آباد میں ایک غیر سیاسی اجلاس منعقد کرتے ہوئے خیریت آباد حلقہ اسمبلی میں مسلم قبرستان کے تحفظ اور اس کے لئے جگہ کی فراہمی کے معاملہ میں کی جانے والی کوتاہی کے خلاف آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ آئندہ انتخابات سے قبل اگر قبرستان کی اراضی مسلمانوں کے حوالہ کرنے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں اور اسے لینڈ گرابرس سے محفوظ نہیں کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں موجودہ رکن اسمبلی کو مسلم رائے دہندوں سے ووٹ کی اپیل کرنے کا حق بھی نہیں ہوگا۔ جناب افضل دکھنی نے بیگم پیٹ قبرستان اراضی کے معاملہ میں سروے کی تکمیل اور محکمہ مال کی جانب سے رپورٹ داخل کئے جانے کے باوجود اس اراضی پر لینڈ گرابرس کو روانہ کرتے ہوئے تنازعہ پیدا کرنے کا سیاسی قائدین پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حلقہ اسمبلی خیریت آباد کے مسلمانوں کو قبرستان کے لئے اراضی کے لئے جدوجہد کرنی پڑرہی ہے جبکہ ریاستی حکومت کی جانب سے دیگر طبقات کو مختلف مقامات پر قبرستان کے لئے اراضیات کی فراہمی کے اقدامات کررہی ہے لیکن مسلم قبرستانو ںکے محفوظ اراضی کو لینڈ گرابرس کے حوالہ کرنے کی سیاسی کوشش کی جا رہی ہے۔مقامی مسلمانوں نے بتایا کہ وہ مذکورہ اراضی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اس اراضی پر تدفین کی اجازت حاصل کرنے کے لئے گذشتہ 12 سال سے کوشش کر رہے ہیں اور ہر مرتبہ سیاسی قائدین کی جانب سے اس بات کا تیقن دیا جاتا رہا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے اقدامات کریں گے لیکن گذشتہ ماہ قبرستان کی اس اراضی پر لینڈ گرابرس کی جانب سے تعمیر کی کوشش کی گئی جسے ناکام بنادیا گیا لیکن محکمہ مال کے عہدیداروں کی جانب سے لینڈگرابرس کی مدد کی کوشش کی جا رہی ہے اور منتخبہ عوامی نمائندے بھی لینڈ گرابر س کی مدد کر رہے ہیں جو کہ حلقہ اسمبلی خیریت آباد کے مسلم رائے دہندوں میں ناراضگی کا سبب بن رہا ہے۔ جناب محمد عباس ‘ جناب طہٰ محمود قادری ‘ جناب محمد صلاح الدین کے علاوہ دیگر نے اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ قبرستان کی اراضی کے معاملہ میں سیاسی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اگر سیاسی دباؤ ڈالتے ہوئے اس اراضی پر قبضہ کی دوبارہ کوشش کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کیا جائے گا۔حلقہ سے تعلق رکھنے والی مساجد کے ذمہ داروں اور مختلف تنظیموں سے تعلق رکھنے والو ں نے بتایا کہ ریاستی حکومت اور متعلقہ رکن اسمبلی کو گذشتہ انتخابات میں کئے گئے قبرستان کی اراضی کے تحفظ اور مقامی مسلمانوں کو حوالگی کے سلسلہ میں کئے گئے وعدہ کی تکمیل کے بعد ہی انہیں اپنے علاقوں میں آنے کی اجازت دی جائے گی ۔م