’ داستان‘ اپنے زمانے کی تہذیب اور کلچر کوسمجھنے کا سب سے اچھا اور مستند ذریعہ ہے

   

شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد میں پروفیسر ابن کنول کا توسیعی خطبہ اورپرو فیسر فاروق بخشی کی تہنیت

حیدرآباد 29 ستمبر (پریس نوٹ) ’’داستان اپنے زمانے کی تہذیب اور کلچر کوسمجھنے کا سب سے اچھا ذریعہ ہے۔جس کی روشنی میں اس دور کے معاشرے کو اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ داستان کے واقعے عام طور سے بیرون ممالک کے ہوتے تھے مثلا روم، شام، ایران،عجم ،مصر وغیرہ اس کی وجہہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ محض یقین پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا تھا ‘‘۔پروفیسر ابن کنول نے شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد میں توسیعی خطبہ میں داستان پر گفتگو کرتے ہوئے موضوعات اور فنی اعتبار سے داستانوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ پانچواںتوسیعی لیکچر بعنوان ’’داستان کا فن ‘‘ 26ستمبر شعبہ اردو، یونیورسٹی آف حیدر آباد میں عمل میں آیا۔ پروفیسرابن کنول نے اپنی تقریر کا آغاز میں کہا کہ لاک ڈاون میں بچے اکثر یہ سوال کیا کرتے تھے کہ ہم تحقیقی کام کیسے کریں لائبریریاں بند ہیں۔ ہمارے پاس کتابیں موجود نہیں ہیں لیکن یقین جانے کہ یہ کام کرنے کے لئے سب سے اچھا وقت تھا ۔ جہاں تک مواد کی بات رہی تو آن لائن ویب سائیٹس پر ہزاروںکتابیں موجود ہیں جن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ ان کے اکثر خاکے ، سفرنامے لاک ڈاون کے زمانے میں ہی تحریر کئے گئے ہیں ۔ پروفیسر فضل اللہ مکرم‘ صدر شعبہ اردو ‘یونیورسٹی آف حیدرآباد نے پروفیسر ابن کنول کا تعارف کرواتے ہوے بتایا کہ پروفیسر ابن کنول عالمی شہرت یافتہ ادیب ہیں انہوں نے کئی ممالک کا سفر کیا۔ وہ ایک بہترین نقاد، عمدہ محقق، خاکہ نگار، انشائیہ نگار اور باکمال افسانہ نگار بھی ہیں۔ غرض کے ان کی شخصیت ہمہ جہت ہے۔ آپ نے بیشتر اصناف سخن کا احاطہ کیا بالخصوص داستانوں کی تنقید، تشریح و تفہیم کے حوالے سے انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔اس موقع پر مہمان خصوصی پروفیسر فاروق بخشی (مانو) کا شکریہ ادا کرتے ہوے پروفیسرفضل اللہ مکرم نے کہا کہ فاروق بخشی کی سبکدوشی کے بعد حیدرآباد چھوڑنے پرافسوس کا اظہار کیا اور فرمایا کہ وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہیں گے پھر ان کی تہنیت کی گئی ۔ پروفیسر فاروق بخشی نے اولا تو صدر شعبہ کا شکریہ ادا کیا۔ ابن کنول کے بارے میں ایک یادگار جملہ کہا ۔’’گیان چند جین کے بعد داستانوں کی تنقید پر اگر کسی کا سب سے اچھا کام ہے تو وہ ابن کنول کا ہے ‘‘پروفیسر فاروق بخشی نے پوری تقریر میں صرف طلباء کو ہی مخاطب کیا۔ انہیں ڈھیروں نصیحتیں کیں۔ پروفیسرابن کنول کے اس لیکچر کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا طلبہ نے سوالات کیے جن کا ا بن کنول نے تشفی بخش جواب دیا جلسے کے اختتام پر پروفیسر فضل اللہ مکرم نے کہا کہ آج بھی داستان کا دور ہے۔ہماری زندگی پر داستان کے اثرات واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ سائنس فکشن نے داستانوں کو فروغ دیا ہے۔آج داستانیں پڑھی اور دیکھی جاتی ہیں۔انہوں نے تمام مہمان گرامی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تمام حاضرین محفل کا بھی شکریہ ادا کیا ۔ اس توسیعی خطبہ میں شعبہ اردو کے تمام اساتذہ اور طلبا و ریسرچ اسکالرز کے علاوہ مانو کے ڈاکٹر ابو شہیم خان اور ڈاکٹر ظفر گلزار بھی شریک تھے۔
باب العلم لائبریری میں نصابی کتب کا عطیہ کی اپیل
حیدرآباد 29 ستمبر (راست) باب العلم لائبریری نے طلباء و طالبات اور عوام الناس سے گزارش کی ہے میٹرک تا ڈگری کورس مستعملہ نصابی کتب باب العلم لائبریری، لائیٹ ہاؤز بلڈنگ کو بطور عطیہ عنایت فرمائیں تاکہ معاشی اعتبار سے کمزور طلباء و طالبات مستفید ہوسکیں۔ مزید تفصیلات کے لئے 9391312386 پر ربط کریں۔