زائرین کی سہولت کیلئے ضروری فنڈس فراہم کرنے حکومت تیار ، ریاستی وزراء پی سرینواس ، اظہرالدین ، کونڈا سریکھا کا خطاب
قاضی پیٹ؍ ورنگل ۔ 11 اگسٹ ۔ (شاہنواز بیگ؍ ایم اے نعیم ) ریاستی وزیر ریونیو، ہاؤسنگ، اطلاعات و تعلقاتِ عامہ اور متحدہ ضلع ورنگل کے انچارج وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے کہا کہ قاضی پیٹ درگاہ کا عرس بھائی چارے کی بہترین مثال ہے۔ ذات پات اور مذہب سے بالاتر ہوکر تمام مذاہب کے لوگ عرس کی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں، جو قاضی پیٹ درگاہ کی نمایاں خصوصیت ہے۔ درگاہ حفرت سید شاہ افضل بیابانی ؒ کے عرس کے سلسلے میں پیر کی شب منعقدہ صندل تقریب میں وزیر اقلیتی بہبود اظہرالدین، وزیر اوقاف و جنگلات کونڈا سریکھا، ورنگل ویسٹ کے ایم ایل اے نائنی راجندر ریڈی، ایم ایل اے ریوری پرکاش ریڈی، کے آر ناگراجو، ایم ایل سی بسواراج سرایا، ضلع کلکٹر چاہت باجپائی، گریٹر میونسپل کمشنر وینکنّا اور سابق میئر یربیلی سوارنا سمیت دیگر نے شرکت کی اور درگاہ میں خصوصی دعائیں کیں۔ اس موقع پر وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے کہا کہ ہندو، مسلم اور عیسائی کی تفریق کے بغیر تمام مذاہب کے لوگ ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر عرس میں شرکت کررہے ہیں۔ درگاہ میں نظر آنے والی بین المذاہب یکجہتی اور انسانی جذبہ انہیں بے حد خوشی دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ درگاہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے ایک منفرد روحانی مرکز ہے اور حکومت اس کی ترقی کیلئے ضروری فنڈز فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔ وزیر نے یقین دلایا کہ آئندہ عرس تک ضروری ترقیاتی اور بنیادی سہولیات کے کام مکمل کرنے کی ذمہ داری وہ خود عرس کے انچارج وزیر کی حیثیت سے لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے علم میں معاملہ لاکر ضروری فنڈز منظور کروانے کی کوشش کی جائے گی۔ ریاستی وزیر اقلیتی بہبود اظہرالدین نے کہا کہ آج ملک کو سب سے زیادہ محبت، اپنائیت، اتحاد اور بھائی چارے کی ضرورت ہے۔ عوام متحد ہوکر کام کریں گے تو ہی سماج اور ملک ترقی کرے گا۔ریاستی وزیر کونڈا سریکھا نے کہا کہ سب سے پہلے ہم انسان ہیں، اس کے بعد ذات اور مذہب ہے۔ وزیر نے کہا کہ مذہب اور ذات کے نام پر اختلافات بڑھانے سے ریاست اور ملک کو ترقی کی راہ پر آگے لے جانا مشکل ہوجائے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اختلافات اور نفرت کو جگہ نہ دیتے ہوئے مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے ساتھ متحد ہوکر آگے بڑھیں۔نائنی راجندر ریڈی ورنگل ویسٹ کے ایم ایل اے نے کہا کہ عرس کے موقع پر درگاہ آنے والے عقیدت مندوں کیلئے تقریباً 40 لاکھ روپئے کی لاگت سے پینے کے پانی کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ مختلف ریاستوں سے آنے والے زائرین کیلئے مفت کھانے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ اس موقع پر سجادہ نشین خسرو پاشا نے کہا کہ صوفی بزرگوں نے دنیا کو جو سب سے بڑا پیغام دیا وہ محبت، انسانیت اور بھائی چارے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذات، مذہب اور علاقے کے اختلافات سے بالاتر ہوکر ہر انسان کا احترام کرنا ہی صوفی روایت ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ درگاہ کی ترقی میں تعاون کرتے ہوئے زائرین کیلئے مزید بہتر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ اس موقع پرجانشین سجادہ بختیار بیابانی ، ایم ایل سی بسواراج سرایا، ایم ایل ایز کے آر ناگراجو، ریوری پرکاش ریڈی، ضلع کلکٹر چاہت باجپائی، سابق کارپوریٹر محمد ابوبکر عوامی نمائندے، مختلف محکموں کے عہدیدار، درگاہ کے منتظمین، ملک کے مختلف علاقوں سے آئے صوفی بزرگ، زائرین اور عقیدتمند بڑی تعداد میں موجود تھے۔