دس برسوں کے دوران موسمی تبدیلی، گرم ہواؤں اور لُو لگنے کے ایام میں دوگنا اضافہ

   

تلنگانہ میں درختوں کی پیداوار اور شجرکاری کے ذریعہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کی مساعی

حیدرآباد۔4۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) تلنگانہ میں گذشتہ 10 برسوں کے دوران آئی موسمی تبدیلیوں کے نتیجہ میں گرم ہواؤں اور لو کے ایام دوگنے ہوچکے ہیں۔محکمہ موسمیات کی جانب سے لو اور گرم ہواؤں کے انتباہ کے ریکارڈس کا جائزہ لیا جائے تو گذشتہ 10برسوں کے دوران اس میں زبردست اضافہ ہوا ہے جو کہ تشویشناک ہے۔مرکزی حکومت کی منسٹری آف ارتھ سائنس کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق تلنگانہ میں سال 2015 کے دوران 8یوم گرم ہوائیں اور لو لگنے کے خدشہ کے ریکارڈ کئے گئے تھے اور سال 2019 میں 14یوم انتہائی گرم ہواؤں کے ریکارڈ کئے گئے تھے لیکن جاریہ سال ان کی تعداد12رہی اور سال 2024 میں مجموعی اعتبار سے ان میں کمی دیکھی گئی لیکن اگر 10 برسوں کا احاطہ کیا جائے تو موسمی تبدیلی کے سبب گرم ترین ایام کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔پڑوسی ریاست آندھراپردیش میں بھی گرم ترین ایام یا گرم ہواؤں کے ایام کی تعداد میں مجموعی طور پر دوگنا اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے ۔مرکزی حکومت کی جانب سے جن ریاستو ںمیں گرم ہوائیں چلنے کے ایام میں اضافہ ہورہا ہے ان کا مشاہدہ کرتے ہوئے ریاستوں کو متنبہ کیا جا رہاہے اور حکومتوں کو تجاویز روانہ کرتے ہوئے ان پر عمل آوری کے ذریعہ Heatwave کے ایام کو کم سے کم کرنے کے اقدامات کی تاکید کی جا رہی ہے ۔ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت نے 2022 میں جو ایکشن پلان تیار کیا تھا اس کی تفصیلات ان تمام ریاستوں کو روانہ کی گئی ہیں جہاں گرم ہواؤں کے ایام میں اضافہ دیکھا جا رہاہے لیکن بیشتر ریاستوں کی جانب سے ان سفارشات اور تجاویز کو نظر انداز کیا جارہا ہے جو کہ آئندہ ماحولیاتی تبدیلی اور موسمی تبدیلی پر منفی اثرات کا سبب بن سکتی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت تلنگانہ کی جانب سے درختوں کی پیداوار اور شجرکاری کے ذریعہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے اور موسمی تبدیلی کے سبب موسم پر ہونے والے منفی اثرات کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ماہرین موسمیات کا کہناہے کہ گرم ایام کی تعداد میں اضافہ کی بنیادی وجہ ماحولیاتی تبدیلی اور موسمی تبدیلی ہیں اور جس رفتار سے گرم ایام میں اضافہ ہوتا جائے گا اسی تیزی کے ساتھ لو لگنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوگا اسی لئے انسانی صحت کو بھی مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ مرکز کی روانہ کردہ تجاویز اور تیارکردہ ایکشن پلان پر عمل آوری کے ذریعہ موسمی تبدیلی کے منفی اثرات پر قابو پانے کے اقدامات کئے جائیں۔3