دعوت افطار کے بجٹ کو مسلم نوجوانوں کو قرض کی اجرائی کیلئے استعمال کیا جائے

   

سیاسی اور مذہبی قائدین سے بائیکاٹ کی اپیل، اقلیتی ادارے ٹھپ، کانگریس کا الزام
حیدرآباد۔21 ۔ اپریل (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہر سال دعوت افطار اور 300 روپئے کے ملبوسات بطور تحفہ پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوششوں کے بجائے معاشی اور تعلیمی ترقی کے لئے ٹھوس قدم اٹھائے جائیں۔ جنرل سکریٹری پردیش کانگریس کمیٹی ایس کے افضل الدین نے کہا کہ حکومت دعوت افطار اور رمضان گفٹ کی تقسیم کے ذریعہ مسلمانوں کے حقیقی مسائل کو نظر انداز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو دعوت کی نہیں بلکہ روزگار اور تعلیم کی ضرورت ہے۔ چیف منسٹر کی دعوت افطار اور مساجد میں افطار کے سلسلہ میں خرچ کئے جانے والے بجٹ کے ذریعہ کئی ہزار بیروزگار نوجوانوں کو فی کس ایک لاکھ روپئے قرض فراہم کیا جاسکتا ہے جس کے ذریعہ وہ کاروبار کرتے ہوئے خاندان کی کفالت کرسکتے ہیں۔ افضل الدین نے کہا کہ ٹی آر ایس نے انتخابات کے موقع پر عوام سے جو وعدے کئے تھے ، انہیں فراموش کردیا۔ مسلمانوں کو روزگار اور تعلیم میں 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا گیا لیکن اب مرکزی حکومت کی مخالفت کا بہانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح راج شیکھرریڈی حکومت نے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کئے تھے جو آج تک برقرار ہیں، اسی طرح کے سی آر بھی اگر سنجیدہ ہوتے تو مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت کے پاس مسلمانوں کیلئے صرف خوش کن وعدے ہیں۔ اقلیتوں کی ترقی سے متعلق اسکیمات ٹھپ ہوچکی ہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن برائے نام ادارہ میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ حالانکہ حکومت چاہے تو فنڈس جاری کرتے ہوئے مختلف اسکیمات پر عمل کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میں شامل وزراء کو اقلیتوں کی ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ دن رات چیف منسٹر کی تعریف کرتے ہوئے اپنی کرسی بچانے کی فکر ہے۔ افضل الدین نے عام مسلمانوں کے علاوہ مذہبی اور سیاسی قائدین سے اپیل کی کہ چیف منسٹر کی دعوت افطار کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کریں۔ سابق وزیر محمد علی شبیر نے دعوت افطار کے بائیکاٹ کی جو مہم چھیڑی ہے، اس کے اثرات شہر اور اضلاع میں دیکھے جارہے ہیں۔ر