دماغی نکسل ‘ مخالفین نشانہ پر

   

صبح کے تخت نشیں شام کو ملزم ٹھہرے
ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا
ہندوستان میں سیاسی مخالفت کو اب ذاتی دشمنی کی سطح تک پہونچا دیا گیا ہے ۔ سیاسی اختلاف رائے رکھنے والوں کا اس ملک میں پہلے احترام ہوا کرتا تھا ۔ ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی تھی ۔ ان کی رائے سے اتفاق بھلے ہی نہ کیا جائے لیکن شخصیت کو نشانہ بنانے یا پھر انہیں قوم مخالف ‘ ملک مخالف قرار نہیں دیا جاتا تھا ۔ ان کی کردار کشی نہیں کی جاتی تھی اور نظریاتی و سیاسی مخالفت کو اسی حد تک رکھا جاتا تھا تاہم اب اقتدار کے زعم میں اور اقتدار کے لالچ میں ملک کی قدیم اور باہمی احترام کی روایات کو پامال کیا جا رہا ہے اور مخالفین کو ملک دشمن قرار دیا جا رہا ہے ۔ کچھ گوشوں سے انہیں پاکستان چلے جانے کو کہا جا رہا ہے ۔ حکومت یا برس اقتدار پارٹی کی مخالفت کو قوم کی مخالفت سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عوام کے ذہنوں میں ایک منفی ایجنڈہ داخل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حکومت سے اتفاق کو ملک سے وفاداری کہا جانے لگا ہے اور حکومت کی مخالفت کوملک دشمنی سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے ۔ ملک کا شائد ہی کوئی شہری ایسا ہو جو اس عظیم ملک کے مفادات کے خلاف کام کرے ۔ اس ملک کا شہری ہونے پر ہر ہندوستانی شہری کو ناز ہے اور وہ فخر محسوس کرتا ہے ۔ اس ملک کی ترقی اور اس کی حفاطت کیلئے ہر شہری اپنی جان تک بھی قربان کرنے کو تیار ہوگا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ حکومت سے اختلاف کرنے والوں کو قوم دشمن قرار دیا جا رہا ہے ۔ حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والوں کو پہلے اربن نکسل کہا گیا تھا اور ہمارے وزیر اعظم نے جو کسی بھی طبقہ کو کوئی بھی لیبل لگانے سے گریز نہیں کرتے اب مخالفت کرنے والوں کو دماغی نکسل قرار دینے سے گریز نہیں کیا ہے ۔ آج یوم آزادی ہند کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اختلاف رائے رکھنے والوں کو دماغی نکسل قرار دیا ہے اور کہا کہ ایسے عناصر کی شناخت کی جانی چاہئے اور انہیں سماج میں یکا و تنہا کردیا جانا چاہئے ۔ اس طرح کی اصطلاحات خود ملک کے شہریوں کیلئے استعمال کرنے کی روایت کو ملک کے وزیر اعظم ہی آگے بڑھانے کے ذمہ دار بن رہے ہیں ۔
یوم آزادی کے موقع پر سارا ملک آزادی کا جشن منارہا ہے ۔ ہر کوئی حب الوطنی کے رنگ میں ڈوبا ہوا ہے اور وزیر اعظم آزادی کے جشن کے دوران ہی ہندوستانی شہریوں ہی کو رسواء اور بدنام کرنے سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔ یوم آزادی کے موقع پر ملک کے عوام کو مبارکباد دینے ‘ مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو خراج پیش کرنے اور ایک عظیم اور مضبوط ہندوستان بنانے کے منصوبوںکو پیش کرنے کی بجائے سیاست کو ترجیح دی گئی ہے جو افسوسناک ہے ۔ وزیر اعظم کے ریمارک سے سماج میں خلیج میں اضافہ ہوگا اور لوگ حکومت کی مخالفت کرنے کو ‘ جو ہر ہندوستانی کا جمہوری حق ہے ‘ گناہ سمجھنے لگیں گے اور ایسا کرنے والوں کے تعلق سے سماج میں نفرت پیدا ہوگی ۔ آج ملک میں جو حالات ہیں اور خاص طور پر نوجوانوں میں اپنے حقوق کیلئے جو جذبہ پیدا ہوا ہے وہ قابل ستائش ہے ۔ ملک کے نوجوان کسی پر انحصار کرنے کی بجائے اپنے حقوق کیلئے خود جدوجہد کیلئے آگے آگئے ہیں اور وہ حکومتوں سے سوال کرنے لگے ہیں ‘ اپنے حقوق مانگنے لگے ہیں اور حق تلفی کو مزید برداشت نہ کرنے کا عہد کر رہے ہیں تو ایسے میں کسی کو دماغی نکسل قرار دینا درست نہیں کہا جاسکتا ۔ اگر کوئی حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرے ‘ برسر اقتدار جماعت کے نظریہ کو قبول کرنے سے انکار کرے اور اپنے حقوق ملک کے دستور اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے مانگنے کی کوشش کرے تو اسے دماغی نکسل قرار دینا کوئی اچھی روایت نہیں کہا جاسکتا ۔ ملک کے ہی شہریوں کے تعلق سے ایسی رائے ظاہر نہیں کی جانی چاہئے ۔
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے ۔ ملک میںہر کسی کو اپنی رائے پیش کرنے کا حق اور اختیار حاصل ہے ۔ عوام بھی اپنی رائے ظاہر کرتے ہیں۔ حکومت سے سوال کرسکتے ہیں۔ ہمارے دستور اور قانون نے یہ حق دیا ہے ۔ قانون اور دستور کے دائرہ میں رہتے ہوئے ہر کسی سے سوال کیا جاسکتا ہے اور حکومت کو اس حق کو سمجھنے اور قبول کرنے کی ضرورت ہے ۔ سماج میں ایک دوسرے کے تعلق سے خلیج پیدا کرنے کی بجائے سماج کے مختلف طبقات کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہوئے ایک طاقتور ‘ مستحکم اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کی جانی چاہئے ۔ نفاق ڈالنے کی کوششوں سے گریز کیا جانا چاہئے ۔
نوجوانوں کی طاقت کا اعتراف
ہندوستان نے 15 اگسٹ 2026 کو اپنا 80 واں یوم آزادی منایا ۔ ہر سال ہم اپنی آزادی کا جشن مناتے ہیں جو بڑی قربانیوں سے حاصل کی گئی ہے اور اس کی حفاظت ہم سب کی اولین ذمہ داری ہے ۔ اس بار یوم آزادی کے جشن کی خاص بات یہ رہی کہ جو طاقتیں نوجوانوں کو محض سیاسی استحصال کا ذریعہ سمجھا کرتی تھیں اب وہ بھی نوجوانوں کی طاقت کی معترف ہونے لگی ہیں۔ ملک کے سیاسی منظرنامہ اور بیان بازیوں میں نوجوانوں نے اپنی جگہ حاصل کرلی ہے ۔ چاہے مستقبل کے منصوبے ہوں یا پھر ملک کی ترقی کی باتیں ہوں سبھی میں نوجوانوں کا ذکر ہونے لگا ہے اور یہ ہمارے ملک اور ملک کے مستقبل کیلئے ایک بڑی اور اچھی علامت ہے ۔ نوجوانوں نے کسی بہکاوے میں آئے بغیر یا کسی طرح کے جذباتی نعروں کا شکار ہوئے بغیر اپنے مستقبل کیلئے جو جدوجہد شروع کی ہے اس کا اعتراف تمام طاقتیں کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں۔ ملک کے نوجوانوں کو ملک کا مستقبل روشن اور تابناک بنانے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھانی ہے اور نوجوانوں اب یہ ثابت کرنے لگے ہیں کہ وہ اس ذمہ داری کے پوری طرح سے اہل ہیں ۔