دوباک کے کامیاب امیدوار رگھونندن رائو کا سابق میں ٹی آر ایس سے تعلق

   

وکیل کی حیثیت سے اسد اویسی کی ضمانت حاصل کی تھی

حیدرآباد : دوباک ضمنی چنائو کے نتیجہ نے ٹی آر ایس کو حیرت اور صدمہ سے دوچار کردیا لیکن جس شخص نے ٹی آر ایس کو شکست دی ہے وہ ٹی آر ایس پارٹی کے سابق میں پولیٹ بیورو ممبر رہ چکے ہیں۔ ایم رگھونندن رائو نے بی جے پی امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی لیکن وہ سابق میں ٹی آر ایس میں اہم رول ادا کرچکے ہیں۔ 52 سالہ رگھونندن رائو نے اپنے کیریئر کا آغاز تلگو روزنامہ کے کنٹریبیوٹر کی حیثیت سے کیا تھا لیکن بعد میں وہ ٹی آر ایس میں سرگرم ہوگئے۔ 2001ء میں رگھونندن رائو نے عملی سیاست میں ٹی آر ایس کے ذریعہ حصہ لیا اور نئی قائم شدہ پارٹی میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے تلنگانہ تحریک میں سرگرمی سے حصہ لیا تھا اور کے سی آر کے بااعتماد ساتھی کی حیثیت سے شہرت رکھتے تھے ۔ 2013ء میں چندرا بابو نائیڈو سے ملاقات کے الزام میں انہیں معطل کردیا گیا اور وہ بی جے پی میں شامل ہوگئے۔ رگھونندن رائو نے 2013ء میں مجلس کے صدر اسد الدین اویسی کے وکیل کی حیثیت سے ڈسٹرکٹ پرنسپل اینڈ سیشن کورٹ میں ضمانت کی درخواست داخل کی تھی اس وقت وہ ٹی آر ایس کے ضلع صدر تھے۔ مجلس کی جانب سے علیحدہ تلنگانہ تحریک کی مخالفت کے پیش نظر رگھونندن رائو کی پارٹی میں مذمت کی گئی۔ متنگی میں سڑک کی توسیع کے کام میں عبادتگاہوں کو نقصان پہنچانے کے خلاف احتجاج پر مجلسی قائدین کو گرفتار کرتے ہوئے مقدمات درج کئے گئے تھے۔ رگھونندن رائو نے مجلسی صدر اسد اویسی کی ضمانت حاصل کی تھی۔