دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے نوجوان پھر ایک مرتبہ منشیات کی لعنت کا شکار

   


کالج طلباء اور اوباش نوجوانوں میں بیرونی ریاستوں کی ٹولیاں بگاڑنے میں مصروف

حیدرآباد۔30۔اکٹوبر(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے نوجوانوں میں منشیات کے استعمال میں اضافہ کا رجحان ایک مرتبہ پھر سے تیز ہونے لگا ہے اورشہر حیدرآباد میں نشہ آور اشیاء کے استعمال بالخصوص گانجہ اور سفید پاؤڈر کے استعمال میں بتدریج اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اس کی فروخت کے لئے مختلف طریقہ کار اختیار کئے جانے لگے ہیں۔ اس لعنت میں کالجس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو مبتلاء کرنے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں اور ان کوششوں میں نہ صرف بیرونی شہری جو گانجہ اوردیگر منشیات کی فروخت کرتے ہیں بلکہ کچھ مقامی نوجوان بھی شامل ہیں جو ان منشیات کے کاروبار میں آسان دولت کے حصول کے لئے مبتلاء ہونے لگے ہیں ۔ نوجوانوں میں تیزی سے فروغ پا رہی اس برائی پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں منشیات کی لعنت کے متعلق باشعور بنایا جائے اور انہیں اس کے نقصانات سے واقف کرواتے ہوئے انہیں اس سے اجتناب کروایا جائے۔ منشیات کی فروخت میں ملوث نوجوانوں کی شناخت با آسانی والدین کرسکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس تیزی کے ساتھ دولت کی ریل پیل ہونے لگتی ہے اور وہ اپنے اخراجات کے لئے بوجھ عائد نہیں کرتے اس کے علاوہ ان کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جا تا ہے لیکن اس کے باوجود والدین کی جانب سے نظر انداز کرنے کے سبب وہ اس لعنت میں ملوث ہوتے جاتے ہیں اوراس حد تک اس میں اتر جاتے ہیں کہ انہیں واپسی کی راہیں نظر نہیں آتی بلکہ وہ اس برائی کے سبب تباہ ہونے لگتے ہیں۔ منشیات کی فروخت کے لئے ان لوگوں کانشانہ راتوں کے اوقات میں سڑکوں پر گھومنے والے نوجوانوں کے علاوہ کالج جانے والے وہ اوباش نوجوان ہوتے ہیں جو کہ کالج کے نام پر آوارہ گردی کرتے ہیں ۔منشیات کی فروخت کے معاملات میں بیرونی نوجوانوں کے علاوہ پڑوسی ریاستوں سے تعلق رکھنے والی کئی ٹولیاں بھی ہیں جو کہ شہر حیدرآباد تک منشیات پہنچانے میں اہم کردار ادا کررہی ہیں ۔ شہر حیدرآباد کو منشیات سے پاک بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر مہممیں شدت پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ نوجوانوں کی بڑی تعداد اس لعنت کا شکار ہونے لگی ہے اور کئی نوجوان منشیات کے عادی ہوتے ہوئے ریاست کے باہر دیگر ایسے تفریحی مقامات کو تعطیلات گذارنے کے لئے پہنچ رہے ہیں جہاں انہیں منشیات کے استعمال پر کوئی روک ٹوک نہ ہو ۔ نوجوانوں کے گروپس کی ان حرکتوں پر والدین کو گہری نظر رکھنی چاہئے کیونکہ اس طرح کے تفریحی پروگراموں کے ذریعہ وہ منشیات کے عادی ہونے لگ جاتے ہیں اور اگر وہ عادی ہوجاتے ہیں تو انہیں منشیات کے استعمال کو ترک کروانے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔شہر حیدرآباد کے نواحی علاقوں میں موجود فارم ہاؤزس کے علاوہ کم فاصلہ پر موجود تفریحی مقامات منشیات کے عادی نوجوانوں کے مراکز میں تبدیل ہونے لگے ہیں اور انہیں منشیات کے حصول میں ہونے والی آسانی کے متعلق کہاجا رہاہے اب منشیات کے عادی نوجوان آن لائن رابطہ کے ذریعہ منشیات حاصل کرنے لگے ہیں۔م