دونوں شہروں میں مچھروں کی کثرت، وبائی امراض پھیلنے کا اندیشہ

   

مچھروں کی افزائش کو روکنے جی ایچ ایم سی سے شعور بیداری کی ضرورت

حیدرآباد۔2۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں مچھروں کی کثرت نے شہریوں کو پریشان کر رکھا ہے اور موسم میں ریکارڈ کی جانے والی تبدیلی کے نتیجہ میں کئی وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ پیدا ہونے لگا ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور محکمہ صحت کی جانب سے مچھروں کی افزائش کو روکنے کے اقدامات کے طور پر شعور بیداری مہم چلائی جارہی ہے لیکن مچھر کش ادویات کے چھڑکاؤ میں کی جانے والی کوتاہی کے نتیجہ میں وہ محلہ جات اور علاقہ بھی اب مچھروں سے پریشان ہونے لگے ہیں جن علاقوں میں شاذ ونادر ہی مچھر پائے جاتے تھے ان علاقوں میں بھی اب مچھروں کی کثرت نے شہریوں کو مشکل صورتحال میں مبتلاء کیا ہوا ہے۔ شہر حیدرآباد کے علاقہ جات ٹولی چوکی ‘ گولکنڈہ ‘ محمدی لائنس ‘ راجندر نگر ‘ کشن باغ کے علاوہ دیگر محلہ جات سے مچھروں کی افزائش کی شکایات موصول ہوا کرتی تھیں لیکن اب اس کے علاوہ خیریت آباد‘ بارکس‘ چندرائن گٹہ ‘ پنجہ گٹہ ‘ سوماجی گوڑہ کے علاقوںمیں مچھروں کی افزائش میں اضافہ کی شکایات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ریاستی محکمہ صحت نے گھروں میں پانی کی صفائی اور محلہ میں پانی جمع ہونے سے روکنے کے اقدامات کے علاوہ اطراف واکناف کے ماحول کو پاک و صاف رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے شہریوں میں وبائی امراض سے محفوظ رہنے کے لئے شعور بیداری مہم چلائی ہے لیکن اگر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کچہرے کی عدم نکاسی اور صفائی کے اقدامات کے علاوہ مچھر کش ادویات کے چھڑکاؤ میں کی جانے والی کوتاہی کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو ایسی صورت میں دونوں شہروں میں وبائی امراض تیزی سے پھیل سکتے ہیں اسی لئے دونوں شہروں کے تمام محلہ جات میں مچھر کش ادویات کے چھڑکاؤ کی خصوصی مہم چلانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے اور ساتھ ہی جن گنجان آبادیوں میں کچہرے کی نکاسی کے سلسلہ میں اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں ان علاقوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کچہرے کی نکاسی کے ساتھ شہریوں میں سڑکوں پر کچہرا پھینکنے سے ہونے والے نقصانات کے متعلق شعور بیداری یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔3