نئی دہلی، 10 مئی (یو این آئی) ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے اتوار کے روز مغربی بنگال کے کھیجوری علاقے میں آتشزنی کے واقعے کو لے کر کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی حمایت یافتہ شرپسندوں نے 60 سے زائد دکانوں کو آگ لگا دی اور ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش کی۔اپنے واٹس ایپ چینل پر پوسٹ کیے گئے ایک پیغام میں بنرجی نے ہجلی شریف کے نِکّسبہ گرام چکتسالیہ سے شروع ہونے والے تشدد کی مذمت کی اور اس واقعے کو “بربریت سے کم نہیں” قرار دیا۔ترنمول لیڈر نے بی جے پی پر سیاسی طنز کرتے ہوئے پوچھا کہ ”کیا آپ ‘بھوئی’ (خوف) کو اسی طرح بنگال سے باہر نکالنا چاہتے ہیں؟ آگ لگا کر؟۔واقعے میں درجنوں دکانیں تباہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ اس حملے نے مذہبی شناخت کی پرواہ کیے بغیر عام لوگوں کے روزگار کو تباہ کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ”بی جے پی کے حامی شرپسندوں نے 60 سے زیادہ دکانوں کو آگ لگا دی، جس سے معصوم لوگوں کا ذریعہ معاش راتوں رات ختم ہو گیا۔ چاہے وہ ہندوؤں کی دکانیں ہوں یا مسلمانوں کی، کوئی فرق نہیں پڑا۔ یہ کسی ایک طبقے پر حملہ نہیں تھا، یہ بنگال کی سماجی ہم آہنگی، جمہوری ڈھانچے اور امن سے رہنے کے خواہشمند عام شہریوں کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔”مسٹر بنرجی نے بی جے پی پر “نفرت، دھمکی اور تباہی” کی سیاست کرنے کا الزام لگایا اور زور دے کر کہا کہ مغربی بنگال بدامنی پھیلانے کی ایسی کوششوں کی سخت مخالفت کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ “بی جے پی کی سیاست کا یہی اصلی چہرہ ہے ، نفرت، دھمکی اور تباہی۔ بنگال ایسی تشدد کے آگے کبھی نہیں جھکے گا۔”انہوں نے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ”اس شرمناک فعل کے ذمہ داروں کی شناخت کی جانی چاہیے اور انہیں جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے ۔
یہ الزامات مغربی بنگال میں آل انڈیا ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے دوران سامنے آئے ہیں، جہاں انتخابات کے بعد جھڑپیں اور سیاسی تشدد کے الزامات مسلسل سرخیوں میں ہیں۔