دھرانی پورٹل میں بیشتر اوقافی اور انڈومنٹ اراضیات کو خطرہ

   

وقف کو سرکاری اراضی کے طور پر درج کیا گیا، محکمہ اقلیتی بہبود کی چوکسی ضروری، اعلیٰ اختیاری کمیٹی کی جانچ جاری
حیدرآباد۔/21فروری، (سیاست نیوز) سابق بی آر ایس حکومت نے اراضیات کے تحفظ اور اراضی معاملات میں بے قاعدگیوں کو روکنے کیلئے دھرانی پورٹل متعارف کیا تھا۔ کے سی آر حکومت نے پورٹل کی کامیابی کے بلند بانگ دعوے کئے لیکن حکومت کی تبدیلی کے بعد دھرانی پورٹل کی جانچ میں کئی خامیوں کا پتہ چلا ہے۔ ریونت ریڈی حکومت نے دھرانی پورٹل کو ختم کرتے ہوئے متبادل نظام متعارف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی نے کئی دلچسپ انکشافات کئے ہیں جس میں سرکاری، وقف اور انڈومنٹ کی اراضیات کے بارے میں ریکارڈ تبدیل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ دھرانی پورٹل سے وقف اور انڈومنٹ کی اراضیات کے بھاری نقصان کا اندیشہ ہے کیونکہ دونوں محکمہ جات کی زیادہ تر اراضی کو سرکاری ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دھرانی پورٹل کے ریکارڈ کی تیاری میں متعلقہ محکمہ جات سے کوئی تال میل نہیں کی گئی۔ ریوینیو ڈپارٹمنٹ میں انڈومنٹ، وقف اور جنگلات کے عہدیداروں سے اراضیات کے ریکارڈ کی جانچ کے بغیر ہی پورٹل میں سرکاری اراضی کے طور پر درج کردیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ انڈومنٹ ڈپارٹمنٹ نے ریاست میں87235 ایکر اراضی کا دعویٰ کیا جبکہ دھرانی پورٹل میں انڈومنٹ اراضی صرف 49000 ایکر بتائی جارہی ہے۔ اسی طرح تلنگانہ وقف بورڈ نے 77538 ایکر اراضی کا دعویٰ کیا ہے لیکن دھرانی پورٹل پر نصف سے زائد اراضی کو سرکاری اراضی کے طور پر درج کیا گیا جس کے نتیجہ میں وقف بورڈ کئی قیمتی اراضیات سے محروم ہوسکتا ہے۔ محکمہ جنگلات نے 66 لاکھ ایکر اراضی پر دعویداری پیش کی ہے جبکہ دھرانی ریکارڈ میں صرف 47 لاکھ جنگلاتی اراضی درج کی گئی۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پورٹل میں اراضیات کا ریکارڈ درج کرنے میں عہدیداروں نے عجلت سے کام لیا اور متعلقہ محکمہ جات کے ریکارڈ کا جائزہ لئے بغیر ہی بیشتر اراضیات کو سرکاری درج کرنے میں عجلت کی گئی۔ تلنگانہ وقف بورڈ کی کئی قیمتی اراضیات پہلے ہی غیر مجاز قبضوں کے تحت ہے۔ وقف بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق 57 ہزار ایکر اراضی پر ناجائز قبضے ہیں۔ حکومت نے وقف بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق اراضیات کو ممنوعہ اراضیات کی فہرست میں شامل کرنے کے بجائے انہیں یا تو سرکاری قراردیا یا پھر خانگی دعویداروں کے نام ریکارڈ میں شامل کردیئے گئے۔ دھرانی پورٹل سے متعلق 2 لاکھ سے زائد شکایتیں حکومت کے پاس زیر التواء ہیں۔ حکومت کی قائم کردہ اعلیٰ اختیاری کمیٹی بنیادی سطح سے مسائل اور خامیوں کی جانچ کررہی ہے۔ کمیٹی نے مواضعات کی سطح پر ریوینیو اسٹاف کی بحالی کی تجویز پیش کی ہے۔ دھرانی پورٹل کے ریکارڈ پر انحصار کیا جائے تو وقف بورڈ ہزاروں ایکر قیمتی اراضیات سے محروم ہوجائے گا۔ محکمہ اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ کے عہدیداروں کو اپنی دعویداری پیش کرتے ہوئے 77538 ایکر اراضیات پر اپنے مالکانہ حقوق پورٹل میں درج کرانے چاہیئے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے حکومت کی سنجیدگی ظاہر کی ہے اور وقف بورڈ ارکان سے ملاقات کے دوران بھی حکومت سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا گیا۔ حکومت کو اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے اپنی سنجیدگی کو ثابت کرنا ہوگا۔1