دہشت گرد حملوں کیخلاف پاکستان کو اپنے دفاع کا حق : امریکہ

   

واشنگٹن ۔ 3 جولائی (ایجنسیز) امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ دہشت گرد حملوں کے خلاف پاکستان کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے، جبکہ پاکستانی عوام نے برسوں سے دہشت گردی کے باعث بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی حالیہ مہینوں میں شدت اختیار کر گئی۔ 26 فروری 2026 کو افغان فورسز کی جانب سے مبینہ سرحد پار حملوں کے بعد پاکستان نے آپریشن غضب للحق شروع کیا، جس کے تحت افغانستان میں شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں پر فضائی اور زمینی کارروائیاں کی گئیں۔سرحدی کشیدگی کے باعث طورخم، چمن اور دیگر سرحدی راستے گزشتہ برس 13 اکتوبر سے بند ہیں، جبکہ فی الحال صرف افغان پناہ گزینوں کو پاکستان سے افغانستان واپسی کی اجازت دی جا رہی ہے۔اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر شدت پسند گروہ افغان سرزمین کو پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کیلئے استعمال کرتے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع کوئی نیا نہیں۔ اکتوبر 2025 میں بھی دونوں جانب کی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں، جبکہ فروری 2026 میں ہونے والی لڑائی کو حالیہ برسوں کی بدترین سرحدی کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق افغان سرحدی علاقوں میں پاکستانی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 28 افراد ہلاک اور 49 زخمی ہوئے، جبکہ افغان طالبان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستانی حدود میں فضائی حملے کیے۔ دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے وسائل سے مالا مال جنوبی صوبے بلوچستان میں چار ڈرون مار گرائے۔پاکستان ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہے اور اس کی فوجی صلاحیتیں افغانستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ برتر ہیں۔ تاہم افغانستان پر حکومت کرنے والے افغان طالبان چھاپہ مار جنگ کے ماہر ہیں، جو 2021 میں واشنگٹن کے انخلا اور اپنے دوبارہ اقتدار میں آنے سے قبل، امریکی قیادت والی افواج کے خلاف کئی دہائیوں تک لڑ کر سخت جان ہو چکے ہیں۔
پاکستان واشنگٹن کا ایک اہم غیر نیٹو اتحادی ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔اسلام آباد، افغانستان پر ایسے عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے جنہیں وہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔افغان طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عسکریت پسندی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے، اور ان کی دلیل ہیکہ پاکستان اپنی سکیورٹی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈال رہا ہے۔