نئی دہلی، 4جون (ایجنسیز) دہلی کے جنوبی علاقے مالویہ نگر میں واقع فلورش اسٹے بیڈ اینڈ بریک فاسٹ ہوٹل میں گزشتہ روز صبح اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب عمارت سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھنے لگے۔ پانچ منزلہ عمارت میں پھنسے مہمان کھڑکیوں سے مدد کے لئے چیخ رہے تھے جبکہ آگ تیزی سے ہوٹل کے مختلف حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی۔ فائر بریگیڈ کے پہنچنے سے پہلے ہی مقامی مسلم نوجوانوں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ کچھ نوجوان جان خطرے میں ڈال کر دھوئیں سے بھرے ہوٹل میں داخل ہوگئے جبکہ دیگر افراد نے سڑک پر گدے بچھا دیئے تاکہ کھڑکیوں سے چھلانگ لگانے والے افراد محفوظ رہ سکیں۔ بعض نوجوانوں نے بے ہوش متاثرین کو سی پی آر بھی دیا۔ امدادی کارروائیوں میں نمایاں کردار ادا کرنے والوں میں امیر خان، محمد شعیب، وسیم راجہ، محمد افضل اور حوض رانی گاؤں کے دیگر نوجوان شامل تھے۔ ان سب نے شدید خطرات کے باوجود جلتی ہوئی عمارت میں داخل ہو کر لوگوں کو بچانے کی کوشش کی۔ اس المناک حادثہ میں کم از کم 21 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ متاثرین میں کئی غیرملکی شہری اور وہ خاندان بھی شامل تھے جو قریبی اسپتالوں میں علاج کے لئے دہلی آئے ہوئے تھے۔ جب عمارت میں پھنسے افراد دھوئیں سے بچنے کے لیے کھڑکیاں توڑنے لگے تو 61 سالہ ریاض الدین، جو علاقے میں ’میٹریس والا‘ کے نام سے مشہور ہیں، فوری طور پر اپنی دکان سے گدے نکال کر ہوٹل کے نیچے گلی میں بچھانے لگے۔ ریاض الدین نے بتایا کہ انہیں فوراً اندازہ ہوگیا تھا کہ آگ نچلی منزل پر لگی ہے اور اوپری منزلوں پر موجود افراد دھوئیں کی وجہ سے سیڑھیوں تک نہیں پہنچ سکتے۔ انہوں نے پھنسے ہوئے لوگوں کو چھلانگ لگانے کی ہمت دلائی اور یقین دلایا کہ نیچے گدے بچھائے جا چکے ہیں۔ مقامی دکاندار نے بتایا کہ چند منٹ میں 20 سے 22 گدے بچھا دیئے گئے۔ آگ اس قدر شدید تھی کہ نہ کوئی اندر جا سکتا تھا اور نہ باہر نکل سکتا تھا، تاہم گدے بچھانے کی وجہ سے کھڑکیوں سے کودنے والے بیشتر افراد کی جان بچ گئی۔