دیرینہ مطالبہ کی یکسوئی کیلئے حیدرآباد میں اساتذہ کا دھرنا

   

کودنڈا رام اور عزیز پاشاہ کی شرکت، مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا مطالبہ
حیدرآباد۔ تلنگانہ جنا سمیتی کے صدر پروفیسر کودنڈا رام نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹیچرس کے دیرینہ حل طلب مسائل کے سلسلہ میں مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے لاکھوں اساتذہ کی مشکلات دور کریں۔ پروفیسر کودنڈا رام نے اندرا پارک کے قریب ٹیچرس کے دھرنے میں حصہ لیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کودنڈا رام نے اساتذہ اور سرکاری ملازمین کے مسائل کی یکسوئی میں ناکامی کا حکومت پر الزام عائد کیا۔ دھرنا کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے پولیس نے کئی اساتذہ کو حراست میں لے لیا۔ کودنڈا رام نے اساتذہ کی گرفتاری کی مذمت کی اور کہا کہ حکومت پولیس کے ذریعہ عوامی احتجاج کو کچلنا چاہتی ہے۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد کے سی آر نے عوام سے مختلف وعدے کئے تھے لیکن وہ وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیچرس جن کا مقام کلاس روم ہے انہیں پولیس اسٹیشن منتقل کرنا حکومت کیلئے باعث شرم ہے۔ اساتذہ کی ہزاروں جائیدادیں کئی برسوں سے مخلوعہ ہیں جن پر تقررات کی مانگ کی جارہی ہے تاکہ شعبہ تعلیم کو بہتر بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف زمروں میں 25 ہزار سے زائد ٹیچرس کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ انہوں نے پی آر سی کے فوری اعلان کا مطالبہ کیا اور کہا کہ 2018 سے پی آر سی کے بقایا جات کی ادائیگی باقی ہے۔ تلنگانہ تحریک میں ٹیچرس نے غیر معمولی حصہ لیا تھا لیکن ریاست کے قیام کے بعد کے سی آر انہیں بھلا بیٹھے ہیں۔ سی پی آئی کے قائد اور سابق رکن راجیہ سبھا عزیز پاشاہ نے کہا کہ ٹیچرس کا دھرنا حکومت کیلئے خطرہ کی گھنٹی ہے۔ عزیز پاشاہ نے کہا کہ اساتذہ کے تبادلوں اور مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے سلسلہ میں حکومت کو نئے قواعد سے گریز کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستوں میں تعلیم کیلئے سب سے کم بجٹ تلنگانہ کا ہے۔ ریاست میں خواندگی میں اضافہ کے سلسلہ میں حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پی آئی ٹیچرس کے احتجاج کی مکمل تائید کرتی ہے۔